ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او

یو این بدھ 6 مئی 2026 22:15

ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بحر اوقیانوس میں کینری جزائر کے قریب مسافر بردار بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کی ایک سے دوسرے فرد میں منتقلی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

'ڈبلیو ایچ او' میں وبائی و عالمی امراض کی روک تھام کے شعبے کی سربراہ ماریا وان کارخووے نے بتایا ہے کہ بحری جہاز پر یہ بیماری پھیلنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی کارروائی کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، 147 مسافروں اور عملے کے ارکان میں سے سات افراد بیمار ہو چکے ہیں جن میں تین کی موت واقع ہو گئی ہے۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ ایک مریض جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

جہاز پر موجود دو مریضوں کو علاج کے لیےنیدرلینڈز منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

متاثرہ بحری جہاز اس وقت کابو ویڈ کے ساحل سے قریب موجود ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر مسافروں کو اپنے کمروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ جراثیم کشی سمیت صحت عامہ یقینی بنانے کے دیگر اقدامات جاری ہیں۔کابو ویڈ کی طبی ٹیمیں بھی جہاز پر مدد فراہم کر رہی ہیں۔

فی الوقت جہاز پر کسی اور فرد میں ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ تیسرے مشتبہ مریض کو معمولی بخار تھا جس کی حالت اب بہتر ہے۔

مرض کا ممکنہ آغاز

ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں اور ان جیسے کترنے والے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسانوں میں شدید بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اندازاً ہر سال ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

یہ لوگ عموماً متاثرہ چوہوں، ان کے پیشاب، فضلے یا لعاب کے ذریعے اس وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔

ماریا کارخووے نے مرض کے ممکنہ آغاز پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی مریض دو میاں بیوی تھے جو ارجنٹائن سے جہاز پر سوار ہوئے۔ ہنٹا وائرس کی انکیوبیشن مدت ایک سے چھ ہفتوں تک ہو سکتی ہے، اس لیے خیال ہے کہ وہ جہاز پر آنے سے پہلے ہی بیماری متاثر ہو چکے تھے۔

یہ تحقیقی نوعیت کا سفر تھا جس میں شامل بہت سے مسافر پرندوں کا مشاہدہ کر رہے تھے اور جنگلی حیات دیکھ رہے تھے۔ جہاز نے افریقہ کے ساحل کے قریب کئی جزیروں پر قیام کیا، جہاں چوہوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دیگر لوگوں کو ان جزائر سے یہ مرض لاحق ہوا ہو۔ تاہم شبہ ہے کہ قریبی رابطوں، جیسا کہ ایک ہی کمرے میں رہنے والے افراد کو باہمی رابطوں کے ذریعے بھی یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

نگہداشت کی ضرورت

انسانوں کے درمیان اس وائرس کی منتقلی عام نہیں، تاہم ہنٹا وائرس کی ایک قسم 'اینڈیز وائرس' کے گزشتہ پھیلاؤ میں قریبی رابطوں کے ذریعے محدود منتقلی دیکھی گئی تھی۔

ڈاکٹر خارکوو نے کہا ہے کہ ہنٹا وائرس کا نگہداشت کے علاوہ کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔ عام طور پر مریضوں میں سانس کے مسائل جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے انہیں سانس لینے میں مدد فراہم کرنا نہایت اہم ہے۔ بعض مریضوں کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور حالت بگڑنے پر انتہائی نگہداشت کی فراہمی ضروری ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :