جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر بارے

یو این بدھ 6 مئی 2026 22:15

جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) پاکستان میں پولیو کے خلاف ویکسین مہم میں شامل طبی کارکن صنم کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں جا کر بچوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے لیے یہ کام انہوں نے خود منتخب نہیں کیا بلکہ اس کام نے انہیں چُنا ہے۔

صنم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے تربیت پانے والے 4 لاکھ 28 ہزار سے زیادہ طبی کارکنوں میں شامل ہیں جو ملک بھر میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں۔

اندازے کے مطابق یہ کارکن ہر سال 70 لاکھ بچوں اور55 لاکھ ماؤں کو معمول کی ویکسین فراہم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف مہمات کے ذریعے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔

پولیو مہمات چلانے والے کارکنوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے جو مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہیں اور ان علاقوں میں جاتی ہیں جہاں کوئی دوسرا نہیں جاسکتا۔

(جاری ہے)

یہ طبی کارکن نہ صرف طویل فاصلے طے کر کے لوگوں تک پہنچتی ہیں بلکہ ویکسین کے حوالے سے ان کے خدشات کو بھی رفع کرتی ہیں۔ اس طرح وہ 13 ایسی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں جن سے بچاؤ ویکسین کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

© WHO/Sara Akmal ویکسینیٹر صنم اسلام آباد کے رورل ہیلتھ سینٹر باراکہو میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

خاموش سپاہی

حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت سے آگاہی کے لیے منائے جانے والے عالمی ہفتے پر آئیے صنم، لیلیٰ، روزینہ، صغیرہ، زینت، فاطمہ، شمائلہ، عائشہ، دین کومل اور آمنہ جیسی طبی کارکنوں سے ملتے ہیں جو اس حقیقت کو ثابت کر رہی ہیں کہ ویکسین ہر نسل کو بیماریوں سے محفوظ بنانے اور زندگی کو بچانے کا موثر ذریعہ ہے۔

صنم بتاتی ہیں کہ جب وہ زیر تعلیم تھیں تو اس وقت سے ہی انہیں پیشہ وارانہ زندگی میں ایسا شعبہ اختیار کرنے کی خواہش تھی جہاں وہ لوگوں، بالخصوص بچوں کے ساتھ براہ راست کام کر سکیں۔ اسی لیے وہ اس میدان میں آئیں جہاں ان کے لیے ویکسینیٹر اور ایک ماں کے طور پر کردار ادا کرنا ممکن ہوا۔

لیلی بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے کام کو اپنے ذاتی کام جیسی اہمیت دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اور بچے ان کے اپنے ہیں۔ انہوں نے جولائی کی شدید گرمی اور دسمبر کی دھند میں کھیتوں میں سفر کیا ہے۔ جب یہ اطلاع ملے کہ کوئی بچہ آپ کا انتظار کر رہا ہے تو فاصلے مشکل نہیں رہتے۔ اصل دوا اعتماد ہے انجیکشن تو بعد میں لگتا ہے۔

روزینہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس کئی مائیں دور دراز علاقوں سے سفر کر کے اپنے بچوں کی ویکسینیشن کے لیے آتی ہیں اور انہوں نے کبھی ان کو انتظار نہیں کروایا۔

انہوں نے ایسی ماؤں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو خسرہ کے سبب کھو دیا کیونکہ انہیں بروقت ویکسین نہیں مل سکی تھی۔ ویکسین لگوانا انتخاب نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

صغیرہ کہتی ہیں کہ وہ 25 سال سے پہاڑی علاقوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے جن بچوں کو ابتدا میں ویکسین لگائی تھی آج وہی اپنے بچوں کو لے کر ان کے پاس آتے ہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا انعام ہے۔

© WHO/Rahim Mirza ویکسینیٹر آمنہ اسلام آباد کے مہر آباد علاقے میں ویکسین مہم کا ریکارڈ تیار کر رہی ہیں۔

  • زینت (راولپنڈی)

زینت خود بھی ماں ہیں اور انہوں نے اپنے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے ہیں جو صحت مند اور محفوظ ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ملک کے تمام والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلائیں تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہ سکیں۔

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی فاطمہ کا کہنا ہے کہ تشنج اور خناق کی ہر ویکسین ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے۔

انہیں فخر ہے کہ وہ سندھ بھر میں اس بیماری کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

عائشہ کے لیے ان کا رجسٹر صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بچے اور ہر چھوٹی ہوئی خوراک کی تفصیل اس رجسٹر میں درج ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ بچے ہیں جن کی ذمہ داری ان کے ذمے ہے۔

شمائلہ کے مطابق ایچ پی وی (ہیومن پیپیلوما وائرس) کے خلاف ویکسینیشن مہم ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی۔ یہ صرف ویکسین لگانے کا عمل نہیں تھا بلکہ والدین کو یہ سمجھانا بھی تھا کہ یہ ویکسین محفوظ ہے۔ ان کی فہرست میں شامل ہر بچی ایک بیٹی، ایک بہن اور ایک روشن مستقبل ہے اور اس کی حفاظت وہ اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔

  • دین کومل (دیامر، گلگت بلتستان)

دین کومل بتاتی ہیں کہ ان کے ضلع دیامر میں ابتداً ویکسین پلانے والوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مرتبہ لوگوں نے ان کے سامنے دروازے بند کر لیے۔ تاہم، جب اس علاقے میں خواتین کو تعینات کیا گیا تو صورتحال بدلنے لگی۔ اب ویکسینیشن کوریج 57 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور یہی تبدیلی ان کی محنت کا بہترین حاصل ہے۔

ویکسینیٹر آمنہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بچہ ویکسین لینے سے رہ جائے تو وہ ان کی فہرست سے غائب نہیں ہوتا۔ وہ اس کا مسلسل سراغ لگاتی ہیں یہاں تک کہ اسے ڈھونڈ نہ لیں۔ ان کے رجسٹر میں موجود ہر خالی جگہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک بچہ اب بھی خطرے میں ہے۔

© WHO/Rahim Mirza ویکسینیٹر فاطمہ سندھ کے علاقہ ٹھٹھہ میں ایک خاتون کو تشنج کی ویکسین کا ٹیکہ لگا رہی ہے۔

ناممکن کا حصول

1976 میں پاکستان کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے چیچک سے پاک قرار دیا گیا جبکہ 1980 میں اس بیماری کے دنیا بھر سے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ بڑی کامیابی ان طبی کارکنوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھی جو گلی محلوں اور دور دراز دیہات تک پہنچے اور ہر فرد تک رسائی ہونے تک اپنی کوشش جاری رکھی۔

دو سال بعد، 1978 میں پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون حفاظتی ٹیکوں کا توسیعی پروگرام شروع کیا جبکہ اس وقت ملک میں خواتین ویکسینیٹر بہت کم تھیں۔

تقریبا پانچ دہائیوں سے پاکستان نے خواتین طبی کارکنوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ یہ خواتین عالمی ادارہ صحت کی تکنیکی اور عملی معاونت، شراکت دار اداروں کے تعاون اور گاوی جیسے عطیہ دہندگان کی مدد سے ویکسین کو ایسے علاقوں تک پہنچا رہی ہیں جہاں عام طور پر رسائی ناممکن سمجھی جاتی ہے۔

یہ تمام کوششیں اس بنیادی سبق کو آگے بڑھا رہی ہیں جو اس پروگرام کی بنیاد تھا کہ ویکسین اور بچے کے درمیان اصل فاصلہ جغرافیائی نہیں بلکہ انسانی ہوتا ہے اور طبی سائنس کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ویکسین کو ہر بچے تک پہنچایا جائے۔

© WHO ویکسینیٹر لیلیٰ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں ایک بچے کو ویکسین لگا رہی ہیں۔

یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ سنبل فاطمہ نے کیا ہے۔