ڈیجیٹل نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری، یو این
یو این
بدھ 6 مئی 2026
22:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) سبھی جانتے ہیں کہ وائی فائی سگنل کا بند ہو جانا کس قدر پریشان کن ہوتا ہے لیکن ذرا سوچیے کہ اگر مصنوعی سیاروں سے لے کر ہسپتالوں کے لائف سپورٹ سسٹم تک ایسے تمام ڈیجیٹل نظام اچانک تھم جائیں تو کیا ہو گا جن پر ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار ہے۔
یہی وہ ڈراؤنا منظرنامہ ہے جس سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ تمام رکن ممالک کو متحد ہو کر کام کرنے کی اپیل کر رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل خرابی کی ممکنہ وبا کو روکا جا سکے۔
آفات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر (یو این ڈی آر آر) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسمی حالات مزید خطرناک ہو رہے ہیں جو ڈیجیٹل ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر کے آفات کو انسانی بحرانوں میں بدل سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
یہ خطرات حقیقی ہیں اور ان کے آثار زمین اور خلا دونوں میں دیکھے جا چکے ہیں۔
مثال کے طور پر، 2012 میں زمین ایک طاقتور شمسی طوفان کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی تھی۔ اگر یہ طوفان کرہ ارض سے ٹکرا جاتا تو تمام براعظموں میں بجلی کے نظام اور مواصلاتی نیٹ ورک مفلوج ہو سکتے تھے۔بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین(آئی ٹی یو) کی سربراہ ڈورین بوگڈان مارٹن کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام میں خلل آنے کے نتیجے میں سلسلہ وار ردعمل پیدا ہوتا ہے جس کے اثرات بیک وقت مالیات، صحت، نقل و حمل، توانائی اور مواصلات جیسے شعبوں میں پھیل جاتے ہیں۔
خلا میں بڑھتا ہوا ملبہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو اس حد کو چھو رہا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنا ناممکن ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو سیٹلائٹ نیویگیشن، مالیاتی نیٹ ورکس اور موسم کی پیشگوئی جیسے اہم نظام بیک وقت خطرے میں پڑ جائیں گے۔
ڈیجیٹل ناکامی کے ثانوی اثرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل خلل عام طور پر کسی ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا بلکہ تیزی سے پھیلتا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی آفات سے جڑے ڈیجیٹل مسائل میں سے 89 فیصد بنیادی حادثے کے بجائے اس کے ثانوی اثرات سے جنم لیتے ہیں اور ان سے متاثرہ افراد کی تعداد اصل واقعے سے متاثر ہونے والوں کے مقابلے میں 10 گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔'یو این ڈی آر آر' کے سربراہ کمال کشور کا کہنا ہے کہ یہ خطرات بنیادی نوعیت کے ہوتے ہیں جو عموماً نظر نہیں آتے اور کئی مرتبہ مختلف نظاموں کے باہمی انحصار کو مکمل طور پر سمجھا ہی نہیں جاتا۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایک نظام کی خرابی فوراً دوسرے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر بجلی کا نظام بند ہو جائے تو زیادہ تر ٹیلی کام ٹاور صرف نو گھنٹے کا بیک اپ مہیا کر سکتے ہیں اور اس کے بعد وہ بھی بند ہو جاتے ہیں۔ جب مواصلات بند ہوں تو اے ٹی ایم مشینیں کام نہیں کرتیں اور لوگوں کو اپنی ہی رقم تک رسائی نہیں رہتی۔
بہتر تحفظ کی ضرورت
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ترک کر دیا جائے بلکہ حل یہ ہے کہ اس کی ممکنہ ناکامی سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی جائے۔
اس میں چھ ضروری اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں ڈیجیٹل نظام کو لاحق خطرات کی بہتر نشاندہی، ان کے تحفظ سے متعلق عالمی معیار کو مضبوط بنانا، مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانا اور نقصان کے بعد معاشروں کی بحالی کی صلاحیت میں اضافہ شامل ہے۔
علاوہ ازیں، عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینے اور ابتدائی انتباہی نظام کو موثر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ خطرات سے متعلق آگاہی کو عملی اقدامات میں بدلا جا سکے۔
ڈورین بوگڈان مارٹن کہتی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ بڑے ڈیجیٹل خطرات پر قابو پانے کے لیے سنجیدگی سے تیاری شروع کی جائے۔
مزید اہم خبریں
-
پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا
-
ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہوگئیں
-
پاکستان میں دوران پرواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اجازت کا فیصلہ
-
دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار
-
ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او
-
جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر بارے
-
مالی خانہ جنگی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
-
ڈیجیٹل نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری، یو این
-
لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خوف کے طویل سائے برقرار
-
مہاجرت کے محفوظ راستے تارکین وطن اور معیشتوں کے لیے سودمند
-
ایران جنگ: گلف میں بڑھتی کشیدگی پر یو این کو گہری تشویش
-
ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے میرے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.