- اسٹار لنک اور دیگر عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی مستقل رجسٹریشن کیلئے راہ ہموار

پاکستان اسپیس ایکٹیوٹی ریگولیٹری بورڈ نے خلائی ریگولیٹری فریم ورک کا مسودہ پی ٹی اے، پیمرا اور دیگر اداروں کو بھیج دیا

جمعرات 7 اگست 2025 23:35

)اسلام آباد(آن لائن) اسٹار لنک اور دیگر عالمی سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی مستقل رجسٹریشن کیلئے راہ ہموارہوگئی ہے اور پاکستان اسپیس ایکٹیوٹی ریگولیٹری بورڈ نے خلائی ریگولیٹری فریم ورک کا مسودہ تیار کرلیاہے جبکہ پی ایس اے آر بی نے خلائی ریگولیٹری فریم ورک پر اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کر لی ہے۔خلائی ریگولیٹری فریم ورک کا مسودہ پی ٹی اے، پیمرا اور دیگر اداروں کو بھیج دیا گیا،اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کے بعد خلائی ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دی جائیگی۔

ذرائع کے مطابق بین الاقومی بہترین اوصولوں سے ہم آہنگ فریم ورک تیار کیا جارہا ہے، خلائی خدمات کے لیے واضح لائسنسنگ سسٹم، خطرات اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن جیسے نکات بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں نے پاکستان کی خلائی مارکیٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔

ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کو مارچ 2025 میں عارضی این او سی جاری کیا گیا تھا ۔اسٹار لنک کو نئے فریم ورک کے تحت مستقل لائسنس کیلئے دوبارہ درخواست دینا ہوگی ۔چین کی شنگھائی اسپیس کام سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور دیگر عالمی کمپنیاں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں۔دسمبر 2023 میں پاکستان کی قومی اسپیس پالیسی کی منظوری دی گئی ۔فروری 2024 میں پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز رولز کی منظوری دی گئی ۔پی ایس اے آر بی تمام خلائی سرگرمیوں کی نگرانی کا مجاز ادارہ ہے۔سیٹلائیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو پی ٹی اے سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔پی ٹی اے لائسنس کیلئے ان کمپنیوں کو پی ایس اے آر بی سے رجسٹریشن حاصل کرنا ہوگی۔