برسات کے دوران نمی، گرمی کے امتزاج سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں،پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف

جمعہ 8 اگست 2025 20:10

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اگست2025ء) برسات کے موسم میں گرمی کی شدت اور حبس سے پیدا ہونے والے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے شہری زیادہ سے زیادہ ابلے ہوئے پانی کا استعمال کریں اور سکنجبین جیسے قدرتی و مقوی مشروبات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ جسم میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار معروف ماہر امراض معدہ و غذائیت پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ برسات کے دوران نمی اور گرمی کے امتزاج سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں پیٹ کی بیماریاں، لو لگنا اور پانی سے پھیلنے والی بیماریاں شامل ہیں، اس لیے صاف اور محفوظ پانی کا استعمال نہایت اہم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ روزانہ کم از کم آٹھ سے دس گلاس ابلے ہوئے پانی کا استعمال کیا جائے، بازار سے ملنے والے غیر معیاری مشروبات سے اجتناب کیا جائے اور گھروں میں سکنجبین، لیموں پانی اور دیگر صحت بخش مشروبات تیار کر کے استعمال کیے جائیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء ہمیشہ ڈھانپ کر رکھی جائیں، مکھیوں اور جراثیم سے بچاؤ کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور بزرگوں و بچوں کو گرمی سے بچانے کے لیے دوپہر کے وقت دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ برسات کے موسم میں ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا، زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے گریز کرنا اور متوازن غذا کا استعمال صحت مند رہنے کے بنیادی اصول ہیں۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں آگاہی پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ احتیاط اور صفائی کو اپناتے ہوئے برسات کے موسم کو محفوظ اور خوشگوار بنایا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :