کئی سال سے کورٹ فیسوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور صوبائی وزیر قانون کی مشاورت سے کورٹ فیسوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ

منگل 12 اگست 2025 16:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 اگست2025ء) وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عدالتوں میں کئی سال سے کورٹ فیسوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور صوبائی وزیر قانون کی مشاورت سے اس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ کے نکتہ اعتراض کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جو معاملہ معزز رکن نے اٹھایا ہے یہ عدالتی معاملات ہیں ، ادھر حنیف عباسی موجود ہیں جنہیں رات کے اندھیرے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم عدالتوں نے بعد میں انہیں بری بھی کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سردار لطیف کھوسہ میرے استاد ہیں اور جب میں 1994 میں ان سے وکالت سیکھ رہا تھا تو اس وقت ان کی فیس ایک لاکھ روپے تھی جبکہ اب ان کی فیس ایک کروڑ روپے ہے، اس طرح ان کی فیس میں 100 گنا اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ کورٹ فیسوں میں اضافے کا مقصد عدالتی نظام کی مالی ضروریات کو پورا کرنا اور عدلیہ کے وسائل کو بہتر بنانا ہے تاکہ مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلے ممکن ہو سکیں۔

علی محمد خان کے نکتہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ مذکورہ بل اقلیتوں کے حوالے سے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جن کے پاس فوجداری یا سزا جزا کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بل سے پہلے سینیٹر علی ظفر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں تمام اقلیتوں اور جماعتوں کی نمائندگی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے حوالے سے ہم سب کا عقیدہ پختہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بیٹھنے کے لئیے تیار ہیں اگر آپ کی کوئی تجویز ہے تو اسے بھی شامل کیا جائے گا ۔وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1992کے فیصلے میں اس کی تشریح کر دی ہے کہ قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کر سکتے ۔