گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین رحیم یارخان میں گزشتہ روز ایک پروقار شجر کاری مہم کی تقریب

منگل 12 اگست 2025 22:21

رحیم یارخان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 اگست2025ء) گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین رحیم یارخان میں گزشتہ روز ایک پروقار شجر کاری مہم کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف مکاتب فکر اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی مہمان شخصیات میں شیخ زاید میڈکل کالج وہسپتال کے ڈاکٹر عبد الماجد، ڈائریکٹر اسلامیہ یونیورسٹی رحم یارخان کیمپس ڈاکٹر سہیل شریف، پرنسپل پنجاب گروپ آف کالجزر حیم یار خان پروفیسر محمد ایوب خان، اسسٹنٹ رجسٹرار، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان محمد رضوان انور، صدر پرائیویٹ کالجز ایسوسی ایشن رحیم یار خان ملک محمد اشرف، میڈم راشدہ کامل، میڈم خالدہ، میڈم افشاں اور پرنسپل گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین سکھر اڈا رحیم یار خان پروفیسر فرخ نذیر چودھری شامل تھیں۔

(جاری ہے)

تمام مہمانوں نے شجر کاری کے تحت خواتین کالج کے احاطہ میں مختلف پودے لگائے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درخت زمین کے پھیپڑے ہیں، ان کی حفاظت اور افزائش ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ درخت نہ صرف آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن اور آنے والی نسلوں کی بقا کے ضامن بھی ہیں، اس لیے ہر فرد سال میں اپنے حصے کا کم از کم ایک پودا ضرور لگائے۔

اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین رحیم یار خان پروفیسر سعدیہ رشید نے تمام معزز مہمانوں کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ ہذا ماحول دوست سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر تا رہے گا۔انھوں نے شجرکاری مہم کو ماحول کی بہتری کی جانب ایک عملی قدم قرار دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے لیے شجر کاری مہم کے تسلسل کو جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ کہا کہ ہمیں درخت لگاؤ، زندگی بچاؤ کا فارمولا اپنانا ہو گا۔

درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، فضا کو صاف کرتے ہیں، گرمی میں کمی لاتے ہیں اور سایہ فراہم کرتے ہیں۔ درخت زمین کو مضبوط بناتے، پھل، لکڑی اور دوائیں مہیا کرتے ہیں، جب کہ پرندوں اور دیگر جانوروں کو پناہ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے وطنِ عزیز کو سرسبز، صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارا ماٹو ’’درخت لگائیں، اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل سنواریں‘‘ ہونا چاہیے۔