سول اسپتال سکھر میں مفت ادویات ملنا مشکل ہوگیا، غریب مریض پریشان، سرکاری اسپتال کے میڈیکل اسٹور میں ادویات ناپید

ہفتہ 23 اگست 2025 22:39

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2025ء)سول اسپتال سکھر میں مفت ادویات ملنا مشکل ہوگیا، غریب مریض پریشان، سرکاری اسپتال کے میڈیکل اسٹور میں ادویات ناپید،شہری و مریض پرائیوٹ میڈیکل اسٹوروں سے ادویات خریدنے پر مجبور،مریضوں و شہریوں کا بالا حکام سے سول اسپتال کے عملے کی لاپرواہی کا نوٹس لینے سمیت ادویات فراہم کرنے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں قائم سرکاری سول اسپتال میں مریضوں و تیماداروں کو طبی سہولیات کے بعد بنیادی سہولیات ملنا بھی ناپید ہوگیا ہے اسپتال انتظامیہ کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث جہاں او پی ڈی سمیت آپریشن تھیٹر کے باہر بھی مریض و تیماداروں کیساتھ نارو سلوک اختیار کیا جارہا ہے وہی سکھر سول اسپتال علاج معالجے کیلئے سندھ کے مختلف دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو او پی ڈی پر پرچیاں بنوانے کیلئے کئی کئی گھنٹے کھڑے رہنے کے بعد جب پرچی ملتی ہے تو ڈاکٹرز کے کمرے تک پہنچنے میں قطاروں میں انتظار کے بعد جب ڈاکٹر انہیں سرکاری ادویات لکھ کر دیتا ہے تو بے چارے مریض پرچی لئے اس آس پر سرکاری میڈیکل اسٹور کا رخ کرتے ہیں تو انہیں اسٹور پر موجود عملہ یہ کہہ کر ٹال دیتا ہے کہ یہ ادویات ہمارے پاس موجود نہیں یہ باہر پرائیوٹ میڈیکل اسٹور سے ملے گی یا دوبارہ جاکر ڈاکٹر سے لکھوا کر لائو جس پر علاج کیلئے کئی گھنٹوں انتظار کے بعد آنے والا مریض بے بسی کے عالم میں پرائیوت میڈیکل اسٹوروں سے ادویات خریدتا ہوا نظر آتا ہے ، مریضوں کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے وافر مقدار میں ادویات اگر آرہی ہیںتو وہ مریضوں کو کیوں نہیں دی جارہی ہے ، مریضوں کو طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے بعد مریضوں اورانکے تیماداروں کو بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم نہ کئے جانیوالے عمل پر سکھر کے شہری حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے شہری حلقوں نے سول اسپتال انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نگراں صوبائی وزیر صحت، سیکریٹری ہیلتھ،ڈی ایچ او سکھر،ایم ایس سول اسپتال سمیت دیگر بالا حکام سے نوٹس لیکر سول اسپتال علاج کیلئے آنے والے مریضوں اور تیماداروں کو طبی و بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے سول اسپتال میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عملے کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ عنوان :