ایف بی آر کی توجہ اصلاحات کی بجائے توجہ زور زبردستی آمدن بڑھانے پر مرکوز ہے ‘ پیاف

جمعرات 28 اگست 2025 16:22

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی ،سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چودھری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ کئی مواقعوں پر پاکستان کی معاشی بحالی توقعات سے زیادہ مضبوط رہی لیکن جراتمندانہ اور دیرپا اصلاحات نہ ہونے کے باعث اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بحالی کو پائیدار راستے پر گامزن کرنے میں ناکام کا سامنا رہا،معاشی ترقی کی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیںلیکن اس طرف تاحال وہ پیشرفت نظر نہیں آتی جس کی ضرورت ہے ۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو مخصوص شعبہ جاتی مہارت رکھتے ہوں اور موزوں تجاویز پیش کرسکیں ساتھ ہی ایسے گورننس ماہرین بھی ضروری ہیں جو محض نظم و ضبط کے دیرینہ تصور کے بجائے تجرباتی مطالعات کی بنیاد پر سفارشات تیار کرسکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ٹیکس شعبے کو بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن موجودہ ٹیم کی توجہ صرف زور زبردستی آمدن بڑھانے پر مرکوز ہے نہ کہ ایسے اقدامات پر جو ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسز کو فروغ دیں۔ اس وقت مجموعی محصولات کا تقریباً 75 سے 80 فیصد بالواسطہ ٹیکسز پر مشتمل ہے جن کا بوجھ غریبوں پر امیروں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔