شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زرعی صارفین ٹرانسفارمرزاور برقی آلات کی واپسی کیلئے تعاون کریں،ترجمان کیسکو بلوچستان

جمعہ 29 اگست 2025 17:21

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) ترجمان کیسکو بلوچستان نے کہا ہے کہ شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زرعی صارفین ٹرانسفارمرزاور برقی آلات کی واپسی کیلئے تعاون کریں،کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)نے زرعی ٹیوب ویل کنکشنز کی شمسی توانائی پر منتقلی منصوبہ کے چار فیز پرکام مکمل کرلیاہے۔اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے زمینداروں کو رقوم کی ادائیگی کے بعد کیسکونے زرعی کنکشنز کیDismantlingشروع کرکے برقی کنکشنزمنقطع کردئیے اوراسکے علاوہ اس منصوبہ میں شامل زرعی کنکشنز کے ٹرانسفارمرز، ایچ ٹی کھمبے اور ان سے منسلک دیگر برقی آلات ہٹادئیے گئے جبکہ بعض علاقوں میں زمینداروں کی جانب سے تاحال زرعی کنکشنوں سے منسلک ٹرانسفارمرز اور دیگر برقی آلات کیسکوٹیموں کو واپس نہیں کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ترجمان کیسکونے مذکورہ زرعی صارفین سے اپیل کی ہے کہ حکومت کی جانب سے رقوم کی منتقلی کے بعد زرعی صارفین ٹرانسفارمرز،ایچ ٹی کھمبے اور ان سے منسلک دیگر برقی آلات کی واپسی کے عمل میں کیسکوٹیموں سے تعاون کریں تاکہ یہ منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچائی جا سکے۔واضح رہے کہ زرعی ٹیوب ویل کنکشنز کی سولرائزیشن منصوبہ کے پہلے مرحلہ (یعنی فیز ون) پر کام دسمبر2024میں شروع کرکے 17جنوری 2025کو مکمل کرلیاگیا۔

دوسرے مرحلے (یعنی فیزٹو)میں 3729رجسٹرڈزرعی کنکشنزاور933غیر قانونی کنکشنزسمیت 4662زرعی کنکشنز کیسکو نیٹ ورک سے منقطع کردئیے۔ تیسرے مرحلے(یعنی فیزتھری)کے تحت 7000 زرعی کنکشنزجبکہ چوتھے مرحلے(یعنی فیز فور)میں کیسکونے 12ہزار250زرعی کنکشنز منقطع کردئیے اوراس طرح مجموعی طورپر صوبہ کے مختلف علاقوں میں 25ہزار678زرعی کنکشنز منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ 8905زرعی ٹرانسفارمرزجبکہ 4716ایچ ٹی کھمبے اور ان سے منسلک دیگربرقی آلات بھی ہٹادئیے گئے تاکہ یہ زرعی کنکشنز دوبارہ کیسکونیٹ ورک سے منسلک نہ ہوسکیں۔

متعلقہ عنوان :