Live Updates

ْسندھ حکومت ، ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ زراعت کے افسران کی چھٹیاں منسوخ

سندھ حکومت نے کسانوں کی مدد کیلیے حیدرآباد میں رین ایمرجنسی سیل قائم اور 30اضلاع میں فوکل پرسن مقرر کردیے

جمعہ 29 اگست 2025 20:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)سندھ میں ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت متحرک ہوگئی ہے۔ وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی ہدایت پر محکمہ زراعت کے تمام افسران اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ حیدرآباد میں ڈی جی زراعت کے دفتر میں رین ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں کسان براہِ راست مدد حاصل کر سکیں۔

ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع اور تپہ سطح تک ایمرجنسی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ 30 اضلاع میں ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ سیلابی صورتحال میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ مزید برآں، زراعت ایکسٹینشن ونگ حیدرآباد میں 24/7 رین ایمرجنسی کنٹرول روم بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ کریں گے۔

(جاری ہے)

وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں الرٹ رہیں، کسانوں سے براہ راست رابطے میں رہیں اور روزانہ کی بنیاد پر سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو بیج، کھاد اور زرعی آلات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔سردار محمد بخش مہر کی جانب سے انجینئرنگ ونگ کو بھی مشینری اور بلڈوزر ہمہ وقت تیار رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں تاکہ ضلعی انتظامیہ کو ضرورت پڑنے پر فوری معاونت فراہم کی جا سکے۔

افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، کسانوں کی سہولت کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر 0311-1164611 بھی جاری کر دیا گیا ہے۔وزیر زراعت کے مطابق وزیراعلی سندھ نے وزرا کو دریائے سندھ کے لیفٹ اور رائٹ بینک پر ڈیوٹیاں تفویض کر دی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکی. سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے، جس سے زرعی شعبے سمیت دیگر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :