
ٴْپشاور،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اہم اجلاس
۴محکمہ صحت کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ( آئی ایم یو) کی گذشتہ 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا
جمعہ 29 اگست 2025 21:45
(جاری ہے)
رپورٹ کے مطابق پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، اسی طرح پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی غیر حاضری کی شرح 12 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران پرائمری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل افسران کی تنخواہوں سے 10.5 ملین روپے کی کٹوتی کی گئی، صوبہ بھر میں 1766 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 1096 سے وضاحت طلب کی گئی ، 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی جبکہ 36 ڈاکٹرز کے خلاف انکوائری شروع کی گئی اور 244 کو وارننگز جاری کی گئی ہیں۔اسی طرح سیکنڈری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 83 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہو گئی ہے۔ سیکنڈری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل آفیسرز سے گذشتہ 6 ماہ کے دوران 6.8 ملین روپے کی ریکوری کی گئی ہے ، صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میںن 1487 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 719 سے وضاحت طلب کی گئی ہے ، 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ، 18 کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ، 264 ڈاکٹرز کو وارننگز جاری کی گئی ہیں جبکہ 522 کے خلاف دیگر محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ بریفننگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نو میڈیکل سپرینٹنڈنٹس اور 7 ڈی ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی بارے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پرائمری مراکز صحت میں ضروری ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد جبکہ سیکنڈری مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح پرائمری مراکز صحت میں ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 93 سے بڑھ کر 95 فیصد ہو گئی ہے جبکہ گذشتہ 6 ماہ کے دوران سیکنڈری مراکز صحت میں 60 ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 78 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو مراکز صحت میں ہمہ وقت سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کو مزید بہتر اور موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرائمری اور سیکنڈری دونوں مراکز صحت میں ضروری ادویات کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سکول میں تعلیم اور اسپتال میں علاج کی فراہمی کے وژن کے تحت کام کر رہی ہے ، جن مراکز صحت میں طبی آلات کی کمی ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائے اور مراکز صحت میں بالخصوص واش رومز کی صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے، اسکے نتائج بھی بلا تاخیر عوام تک پہنچنے چاہئیںمتعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
-
موجودہ حکومت میں پانی کے ذخائرنہیں بلکہ پیسا بنانے والے لوگ ہیں
-
دریا کنارے طاقتور شخصیات کی اراضی بچانے کیلئے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں
-
پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند پر جائے گا تو خطرہ ٹلے گا‘ ڈی جی پی ڈی ایم اے
-
کاہنہ ،آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق
-
سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی امدادی سرگرمیوں کا اثر کہیں بھی نظر نہیں آرہا
-
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کا سیلاب متاثرین کیلئے 3ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان
-
پاکستان میں سیلاب بھارت کی آبی جارحیت ہے، عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے
-
ملک میں ڈیمز کیوں نہیں بنتے؟ کیونکہ ہر ڈیم سیاست کی نذر ہوجاتا ہے
-
لاہور: راوی کنارے قائم شاہدرہ میں کئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں سیلاب سے بری طرح متاثر
-
حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اب تک 15 ارب ڈالرز سے زائد کے نقصان کا اندازہ ہے
-
"علیم خان نے راوی کی حدود میں 300 ایکڑ زمین لی جو غیر قانونی تھی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.