Live Updates

بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا

ستلج، راوی اور چناب میں بھارت پہلے ہی پانی چھوڑ چکا، دریائے جہلم کے راستے میں آنے والے علاقوں میں بھی سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ

muhammad ali محمد علی ہفتہ 30 اگست 2025 00:23

بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اگست2025ء) بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا، ستلج، راوی اور چناب میں بھارت پہلے ہی پانی چھوڑ چکا، دریائے جہلم کے راستے میں آنے والے علاقوں میں بھی سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ۔ تفصیلات کے مطابق ستلج، راوی اور چناب کے بعد بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پھر پانی چھوڑ دیا،پاکستان کے علاقوں میں جہلم دریا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

بھارت نے دریائے جہلم پر بنائے ہوئے اوڑی ڈیم کے سپیل وے کھول دیئے ہیں جس کے بعد مظفر آباد شہر میں دریائے جہلم میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اوریہاں فی الحال نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ جہلم دریا میں اوڑی ڈیم سے چھوڑے گئے سیلابی پانی کا بڑا ریلہ دومیل مظفرآباد کے مقام سے گزر رہا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ دریائے جہلم میں آنے والے اس پانی کو اگر منگلا ڈیم میں سٹور نہ کیا جا سکا تو دریائے چناب میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

اگر بھارت کی جانب سے جہلم دریا میں زیادہ پانی چھوڑ دیا گیا تو آزاد کشمیر کے ساتھ پاکستان کے دریائے جہلم کے نزدیک آباد شہروں اور دیہات کو بھی سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔پاکستان میں دریائے جہلم منگلا ڈیم سے کچھ فاصلے پر آباد شہر جہلم اور پورے ضلع جہلم کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے آگے خوشاب اور جھنگ کے علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث پانی تیزی سے قصور کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ بند میں حفاظتی شگاف ڈالنا ناگزیر ہوگیا۔ پانی ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کی طرف بڑھے گا اور بہاولپور سے گزرتے ہوئے پنجند تک پہنچنے تک خطرہ برقرار رہے گا۔ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے نالہ ڈیک پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ اوکاڑہ اور ساہیوال کو دریائے راوی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ قادرآباد میں تاریخی نوعیت کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے اور ڈان اسٹریم دبا برداشت نہ کرسکے تو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات