بین المذاہب ہم آہنگی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے،بنیادی حقوق کا تحفظ ہی انصاف کا اعلیٰ ترین مظہر ہے ، چیف جسٹس جسٹس یحیی ٰ آفریدی

جمعرات 16 اکتوبر 2025 21:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2025ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی ٰ آفریدی نےکہا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہےجو آئینی تقاضا بننے سے بہت پہلے ہی ہماری تہذیبی اور اخلاقی روایت کا حصہ تھی،بنیادی حقوق کا تحفظ ہی انصاف کا اعلیٰ ترین مظہر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’’بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی انسانی حقوق ،ایک آئینی تقاضا‘‘ کے عنوان سے قومی سمپوزیم سے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کیا ۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی میزبانی میں ’’بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی انسانی حقوق،ایک آئینی تقاضا‘‘ کے عنوان سے قومی سمپوزیم منعقد ہوا جس کا اہتمام لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کیا۔

(جاری ہے)

مہمان خصوصی سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان کی دعوت پر پاکستان تشریف لائے اور کلیدی خطاب پیش کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انصاف، رحم دلی اور انسانی اخوت وہ مشترکہ اقدار ہیں جو تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں اور یہی اقدار بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد بنتی ہیں۔سمپوزیم سے وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ربیعہ جویری آغا، اور سینیٹر فاروق حامد نائیک نے بھی موضوعاتی خطابات کیے۔

اختتامی سیشن میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر آئینی طور پر یہ مقدس ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مساوات، تکثیریت (Pluralism) اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کا تحفظ کرے۔اجلاس کے اختتام پر “اعلامیہ برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق” منظور کیا گیا، جس میں پاکستان کے اس عزم کو دہرایا گیا کہ اتحاد، برداشت اور انصاف کو آئینی جمہوریت کی بنیاد کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے معزز ججز، ضلعی عدلیہ کے ارکان، سفارتی نمائندے، بین الاقوامی شراکت دار، ممتاز ماہرین قانون، وکلا، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔