سلام کسان مہم کے ذریعے پاکستان کی زرعی جدیدیت اور پائیداری کی جانب قدم

پاکستان کی معیشت میں زراعت کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی سمجھا گیا ہے، مگر ایک بار پھر یہ شعبہ ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے جو اب معمول بنتی جا رہی ہے

پیر 15 دسمبر 2025 12:31

سلام کسان مہم کے ذریعے پاکستان کی زرعی جدیدیت اور پائیداری کی جانب ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 دسمبر 2025ء) پاکستان کی معیشت میں زراعت کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی سمجھا گیا ہے، مگر ایک بار پھر یہ شعبہ ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے جو اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ 2025 کے سیلاب نے ثابت کر دیا ہے کہ قدرتی آفات اب کبھی کبھار آنے والے حادثات نہیں رہے، بلکہ یہ مستقل خطرات بن چکے ہیں جو ہماری معاشی سمت کو تبدیل کر رہے ہیں۔

پاکستان آج بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ 2022 کے سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 80 لاکھ ایکڑرقبے پر لگائی فصلیں تباہ ہوئیں اور مجموعی نقصان تقریباً 13 ارب ڈالر رہا۔

(جاری ہے)

یہ واقعہ ہمارے لیے ایک سبق ہونا چاہیے تھا، مگر اب یہ تباہیاں وقفے کے ساتھ دوبارہ ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔


اسی طرح اس سال کا سیلاب بھی پچھلے زخم بھرنے سے پہلے ہی فصلوں، سپلائی چین اور مارکیٹوں کو شدید متاثر کر گیا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق مجموعی نقصان 2 ارب ڈالر سے زائد اور صرف زراعت کا نقصان تقریباً 430 ارب روپے ہے، جس میں کپاس، چاول اور گنے کی بڑے پیمانے پر تباہی شامل ہے۔ نتیجتاً خوراک کی قلت بڑھے گی، برآمدات کم ہوں گی اور ملک کو ضروری غذائی اشیاء درآمد کرنا پڑیں گی۔


یہ مسئلہ صرف کسان یا زراعت تک محدود نہیں۔ جب فصل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات ملک بھر میں مہنگائی، ٹیکس وصولی، پیداواری لاگت اور دیہی روزگار تک پھیل جاتے ہیں۔ گزشتہ رپورٹس کے مطابق ستمبر میں مہنگائی 3.5% سے 4.5% تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کی پاکستان ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025 کے مطابق مجموعی مہنگائی 7.2% تک جا سکتی ہے ۔ عام پاکستانی گھرانے کی آمدن کا نصف حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے، اس لیے مہنگائی کا بڑا بوجھ ہمیشہ عوام پر پڑتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی بازار میں نہیں، کھیت میں پیدا ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں فاطمہ فرٹیلائزر کی 'سلام کسان' مہم ایک نمایاں مثال ہے، جو کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجیز، موسمیاتی پیشگوئی اور عملی تربیت فراہم کر کے ان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ یہ مہم چھوٹے اور بڑے کسان دونوں کو بااختیار بناتی ہے تاکہ وہ موسمیاتی بحران کے اثرات سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں اور اپنی پیداوار کو محفوظ رکھ سکیں.فاطمہ فرٹیلائزر جو صرف زرعی پیداوار کے لیے کھاد فراہم نہیں کرتی بلکہ پورے زرعی ماحولیاتی نظام کی مضبوطی پر کام کرتی ہے۔

کمپنی نے 2019 میں پہلی بار ’کسان ڈے‘ کا آغاز کیا، جو اب قومی سطح پر تسلیم شدہ تحریک بن چکی ہے۔ ساتھ ہی ’سلام کسان‘ مہم کے ذریعے کسانوں کی آواز کو ملکی سطح پر نمایاں کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے مسائل اور کردار کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
جہاں حکومت پالیسی بناتی ہے، وہیں نجی شعبہ عملی مدد فراہم کر رہا ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر اس خلا کو ڈیجیٹل زرعی خدمات، مٹی اور پانی کی ٹیسٹنگ، اور ریئل ٹائم مشوروں کے ذریعے پُر کر رہی ہے۔

کمپنی کی سرسبز پاکستان (Sarsabz Pakistan) موبائل ایپ کسانوں کو موسم کی پیشگوئیاں، فصل کی مخصوص غذائیت،4R نیوٹریئٹ گائیڈنس، کیڑوں کے خدشات اور فصل کے مختلف مراحل کے مطابق مشورے فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے مٹی کی نمی، موسمی رجحانات اور غذائیت کی ضرورت کا تخمینہ بہتر بنایا جاتا ہے، جبکہ جدید ٹریکٹرز، pivot irrigation، اور پریسیژن ایگریکلچر ٹولز پانی اور کھاد کے بہتر استعمال کو ممکن بناتے ہیں۔


ان اقدامات کے نتائج اب پیداواری سطح پر نظر آ رہے ہیں۔ Nitrophos اور CAN جیسے غذائی حل 10% سے زائد پیداوار میں اضافہ ثابت کر چکے ہیں۔ رواں سال کے ’گندم مقابلہ‘ میں بھی فاطمہ فرٹیلائزر کے جدید طریقوں سے استفادہ کرنے والے کاشتکاروں نے 93 اضلاع اور 3 صوبوں میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید غذائی حل صرف نظریہ نہیں بلکہ عملی فائدہ دیتے ہیں۔


کسانوں کی ترقی صرف تکنیک سے نہیں بلکہ مالی سہولت سے بھی ممکن ہے۔ فاطمہ فرٹیلائزر نے JazzCash، Mobilink Bank، ZTBL اور FasalPay’جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چھوٹے کسانوں کے لیے بغیر ضمانت (collateral-free) فنانسنگ کو ممکن بنایا ہے، جو انہیں جدید، کلائمٹ اسمارٹ طریقے اپنانے میں مدد دیتی ہے۔ اسی تسلسل میں کمپنی UNDP SDG Impact Framework اپنانے والی پاکستان کی پہلی نجی کمپنی بھی ہے، جس سے پائیدار ترقی کا باقاعدہ معیار اور احتساب قائم ہوتا ہے۔





پاکستان کا کسان ہر بحران کے بعد دوبارہ کھڑا ہوتا ہے، بیج بوتا ہے اور 24 کروڑ لوگوں کی خوراک کا ذمہ دار بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسان صرف کاشتکار نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی بقا کا ضامن ہے۔ 2025 کا سیلاب یاد دہانی ہے کہ کلائمٹ ریزیلینس کوئی پسند نہیں، ناگزیر ضرورت ہے۔
آج پاکستان کو درج ذیل اصلاحات فوری نافذ کرنا ہوں گی:
    سیلاب اور خشک سالی سے محفوظ بیج
    پانی کا جدید اور منصفانہ نظام
    ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات اور کولڈ چین
    کارپوریٹ و کمیونٹی فارمنگ ماڈلز
    چھوٹے کسانوں کی ڈیجیٹل مالی شمولیت
    موسمی اور کیڑوں سے متعلق فوری ڈیجیٹل معلومات
مستقبل کی آفات سے بچنے کے لیے زراعت میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے۔

راستہ مشکل ضرور ہے، مگر اجتماعی عزم، سرمایہ کاری اور جدید زرعی ماڈلز کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط، پائیدار اور محفوظ زرعی مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں آنے والی نسلیں سہولت اور تحفظ کے ساتھ جی سکیں۔