سیکرٹری کھیل یا گلو بٹ؟ صحافیوں کے سوال پر دباؤ اور مبینہ دھمکیاں، محکمہ کھیل کے ایونٹس پر سوالات، صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

ایوب اسٹیڈیم میں جاری ایونٹس کے دوران سپورٹس ٹک ٹاکرز، نام نہاد اسپورٹس ایسوسی ایشنز پر صحافیوں کو ہراساں کرنے کا الزام

Syed Shah Zeb Raza سید شاہ زیب رضا جمعہ 16 جنوری 2026 16:15

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جنوری2026ء) محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان بلوچستان کے زیرِ اہتمام کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں جاری فٹسال اور ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹس کے دوران صحافیوں کو مبینہ طور پر دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایوب اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے ٹیپ بال کرکٹ مقابلے سڑک پر کرائے جا رہے ہیں، جبکہ محکمہ کھیل کے مطابق ان ٹورنامنٹس میں تقریباً 200 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

ٹورنامنٹس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے جب ایک صحافی نے اسپورٹس بورڈ کے ایک ملازم سے سوال کیا تو مبینہ طور پر سیکرٹری کھیل درا بلوچ نے اس سوال کو ذاتی توہین سمجھتے ہوئے خود مداخلت کی۔ صحافیوں کے مطابق اس کے بعد چند افراد، جو خود کو مختلف اسپورٹس ایسوسی ایشنز سے وابستہ ظاہر کرتے ہیں اور سپورٹس ایونٹ پر صرف ٹک ٹاک بنانے آتے ہیں ، انہی نے سپورٹس گروپس میں سوال پوچھنے والے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

(جاری ہے)

صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد ہر ایونٹ میں نمایاں نظر آتے ہیں تاہم کھیلوں کے فروغ میں ان کی عملی کارکردگی سامنے نہیں آ سکا، یہ صرف جی حضوری اور چمچہ گیری کے لیے ایوب اسٹیڈیم مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ نام نہاد اسپورٹس ایسوسی ایشنز مختلف کھیلوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں اور انہیں سیکرٹری کھیل اور ڈائریکٹر کھیل کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے۔

صحافیوں کے مطابق ماضی میں بھی ایسے عناصر صحافیوں کو دھمکانے اور سوال اٹھانے والوں کے خلاف کردار کشی میں ملوث رہے ہیں۔ صحافتی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کی آواز بننے والے صحافی محفوظ نہیں ہوں گے تو عام شہریوں کے لیے بھی سرکاری اداروں کے خلاف سوال اٹھانا ناممکن ہو جائے گا۔