& بانی توشہ خانہ فوجداری کیس میں کتنی سزا کاٹ چکی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے رپورٹ طلب کر لی

@اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کیلئے ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کرنے بارے تحریری فیصلہ جاری کردیاہے اس فیصلے میں بانی توشہ خانہ فوجداری کیس میں کتنی سزا کاٹ چکی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے رپورٹ طلب کر لی۔جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا۔تحریری حکمنامے میں بانی پی ٹی ا?ئی کی درخواست پر 3اعتراضات دورجبکہ 2برقراررکھے گئے ہیں۔دو اعتراضات پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے کہاکہ رجسٹرار آفس متفرق درخواست کو نمبر لگا کر مرکزی اپیل کے ساتھ مقرر کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10مارچ سے پہلے اپیلوں کی پیپربک تیار کرنے کی ہدایت کردی۔#/s# ********* 05-03-26/--13

جمعرات 5 مارچ 2026 17:45

0ستائیسویں ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں ملا ، زمین کے معاو ضہ کیس میں تحریری فیصلہ جاری #h# a اسلام آباد( آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے شہری اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے کے کیس میں قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

ستائیسویں ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں ملا۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے تحریری فیصلہ جاری کیاہے جس میں قرار دیا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا، قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہے، زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے، آرٹیکل 184(3) کا غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کے لیے ہے، انفرادی شکایات کے لیے نہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔وفاقی ا?ئینی عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا حق محدود ہے سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے، درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے 2022 میں ایک 2 رکنی بینچ نے بدل دیا۔درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے کا کیس تھا۔