Live Updates

چیئرمین خالد مقبول نے چوری چھپے الیکشن کمیشن سے چار بار عہدے میں توسیع لی ‘ مصطفی کمال

خالد مقبول اتنے بڑے رہنما نہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی جائے،فاروق ستار، خواجہ اظہار ،کئی لوگ بھی چیئرمین بننے کے اہل ہیں کراچی دودھ دینے والی گائے ہے ،پاکستان کو دلدل سے آئی ایم ایف نہیں کراچی نکال سکتا ہے‘ متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما کی انٹر ویو میں گفتگو

جمعرات 9 جولائی 2026 13:00

چیئرمین خالد مقبول نے چوری چھپے الیکشن کمیشن سے چار بار عہدے میں توسیع ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2026ء) متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چوری چھپے الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے میں توسیع لیتے رہے ہیں اور انہیں پارٹی عہدے سے ہٹانے کے لیے بغاوت کی ضرورت نہیں پڑ ے گی،بغاوت ہمیشہ بڑے لیڈر کے خلاف ہوتی ہے اور خالد مقبول اتنے بڑے رہنما نہیں ہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی جائے۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ انہوں نے کہاکہ خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کی مرکزی کابینہ کے علم میں لائے بغیر 4مرتبہ الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے میں توسیع لی اور انہیں اس بات کا تب پتہ چلا جب بار بار توسیع لینے پر چیف الیکشن کمشنر نے ان کی سرزنش کی اور اس کی خبر ٹی وی پر چلی۔

(جاری ہے)

اس پر جب ہم نے پوچھا تو ان کے ایک قریبی رکن رضوان بابر نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سال سے ایم کیو ایم کی مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد نہیں ہوا کیونکہ خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ مصطفی کمال اس میں سخت باتیں کرتا ہے۔یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی پارٹی کا چیئرمین اپنے عہدے میں توسیع الیکشن کمیشن سے مانگ رہا ہے اور پارٹی الیکشن سے فرار حاصل کررہا ہے۔ اگر وہ چیئرمین رہنا چاہتے تھے تو ہمیں بتا دیتے ہم انہیں دوبارہ چیئرمین بنا دیتے۔

مصطفی کمال نے کہاکہ جب الطاف حسین کے خلاف بغاوت کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کیا تو خالد مقبول صدیقی کو چیئرمین قبول کیا اور ان کی سربراہی میں انتخابات میں حصہ لیا لیکن اب ایم کیو ایم میں کوئی قائد تحریک نہیں ، کوئی فادر فگر نہیں اب جو پارٹی کا رہنما بنے گا، اپنے کام کے بل بوتے پر بنے گا، مارک شیٹ پر بنے گا اور مارک شیٹ ہماری سب سے اچھی ہے۔

جو رہنما الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے کی توسیع لے رہا ہے وہ ہماری قوم کا مقدمہ کیا لڑے گا ۔انہوں نے کہاکہ اگر الطاف حسین کے خلاف بغاوت ہو سکتی ہے جو بند بوریوں میں لاشیں بھیج دیتا تھا تو پھر کسی کے خلاف بھی ہو سکتی ہے، لیکن بغاوت ہمیشہ بڑے لیڈر کے خلاف ہوتی ہے اور یہ اتنے بڑے لیڈر نہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کرنا پڑے۔ایم کیو ایم میں ان کے علاوہ ڈاکٹر فاروق ستار، خواجہ اظہار اور کئی دوسرے لوگ بھی چیئرمین بننے کے اہل ہیں تاہم پروٹوکول کے تحت خالد مقبول صدیقی کے بعد وہ آتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم لندن اب کہیں نہیں ہے اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی وہ اپنے لیے حمایت حاصل نہیں کر سکے۔کراچی کے حالات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 18سال حکومت کے لیے کم نہیں ہوتے اور آج پیپلز پارٹی کی حکومت کا ان کے دور سے موازنہ کیا جانا چاہیے کہ لوگوں کو پانی، سیوریج اور ٹریفک کے نظام کی سہولتیں آج بہتر مل رہی ہیں یا ان کی مئیر شپ کے دور میں بہتر ملتی تھیں۔

ہمارے پاس 22یا 25ہزار ارب کا بجٹ نہیں تھا، ہم نے رشوت نہیں لی، آج دیکھیں کیا حال ہے۔دبئی میں جائیدادوں کی قیمتیں پاکستانی سیاستدانوں کے پیسے کی وجہ سے بڑھی ہوئی ہیں۔آپ صدر، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر صرف اپنے ووٹوں سے نہیں بنے،پیپلز پارٹی نے 812ارب روپے والی بی آئی ایس پی کی وزارت بھی رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپوزیشن میں ہیں۔مصطفی کمال نے کہاکہ کراچی پاکستان کے لیے دودھ دینے والی گائے ہے اور پاکستان کے لیے اس کو بحال کرنا ہے۔ پاکستان کو دلدل سے آئی ایم ایف نہیں بلکہ کراچی نکال سکتا ہے، آج آپ اس کی صلاحیت سے 10فیصد بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے، پیسے کی کمی نہیں ہے، نیتوں اور انتظامی صلاحیتوں کی کمی ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات