بھارتی آرمی چیف کا پاکستان بارے بیان بیان اپنی شرمندگی کو چھپانے کی دانستہ کوشش ہے، تجزیہ کار

پیر 9 مارچ 2026 19:30

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 مارچ2026ء) تجزیہ کاروں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو غیر ملکی ٹیکنالوجی سے منسوب کرنے کے بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نمایاں سائز، وسائل اور فوجی طاقت کے باوجود بھارت کی اسٹریٹجک شرمندگی کو چھپانے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل دویدی نے ایک پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجی صرف بٹن دباتے ہیں جبکہ وہ جو آلات، معلومات اور مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں وہ دوسرے ممالک سے حاصل کی جاتی ہے۔

انہوں نے روس یوکرائن جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اگر میں یہ کہہ سکوں کہ ایک پاکستانی فوجی صرف بٹن دبا تا ہے، ان کا سامان دوسرے ملک سے آتاہے، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات اوراے آئی کا نیٹ ورک بھی ایک دوسرا ملک فراہم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

جنرل دویدی نے کہا کہ غیر ملکی ٹیکنالوجی کا استعمال جو باہمی تعاون کی وجہ سے ممکن ہے ،بھارت کے لیے باعث تشویش ہے۔

انہوں نے آپریشن سندور کے بعدپاکستان میں آئینی ترامیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو پاکستان کی فوجی قیادت کو بااختیار بناتی ہیں ، پاکستان میں رویے کی تبدیلی پر بھی سوال اٹھایا۔تاہم تجزیہ کاروں نے کہا کہ کہ جنرل دویدی کے بیان کا مقصد بھارت کی اپنی سٹریٹجک خامیوں سے توجہ ہٹانا اور بھارت کی دفاعی پوزیشن کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستان کو تکنیکی طور پر دوسروں پر انحصار کرنے والے کے طور پر پیش کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بیان میں غیر ملکی حمایت کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے جبکہ آبادی، جغرافیائی وسعت، معیشت اور فوجی وسائل میںبھارت کی برتری د کو نظر اندازکیاگیاہے۔ ماہرین نے کہا کہ بھارت پاکستان کو دوسروں پر انحصار کرنے والا ملک اس لئے قراردے رہا ہے تاکہ اس برتری کے باوجود اپنے سے چھوٹے دشمن کو مؤثر طریقے سے روکنے میں اپنی ناکامی کو چھپایا جائے۔