پاکستان سنی تحریک کے تحت 15مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے طور پر منایا جائیگا،براہ پاکستان سنی تحریک

جمعرات 12 مارچ 2026 22:49

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مارچ2026ء) سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ پاکستان سنی تحریک کے تحت 15مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ منایا جائیگا،مغربی ممالک اسلاموفوبیا کا شکار ہیں آزادی اظہار رائے کی آڑ میں شعائر اسلام کی توہین کرتے ہیں،مغربی ممالک میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے مقدسات اسلام اور نبی کریم ﷺ کی توہین کی جاتی ہے،یہود ونصاری عالم اسلام کے مسلمانوں کے دلوں سے حب رسول ﷺ ختم کرنے کیلئے طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں،مسلمانوں کے دلوں میں خاتم النبیینﷺ کی محبت کو چیک کرنے کیلئے گستاخ آمیز پوسٹیں شائع کرکے نفرت وانتشار پھیلاتے ہیں،پوری دنیا کو واضع ہوچکا ہے مسلمانوں کے دلوں سے نبی کریم ﷺ کی محبت کو ختم نہیں کیا جاسکتا،ہر مسلمان آقا کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کیلئے تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے،توہین مذہب اور توہین رسالت وصحابہ واہل بیت سے متعلق گستاخانہ مواد کی روک تھام کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے حکومت کو عوام الناس میں آگاہی مہم چلانے کا حکم دیا ہے اس ضمن میں موجود حکومت عالمی سطح پر منائے جانیوالے اسلامو فوبیا ڈے کو 15مارچ کو تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے طور پر منارہی ہے ہے،پاکستان سنی تحریک حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے 15مارچ 2026کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے طور پر منائیگی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی رہنماں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد ہٹانے اور مغربی اسلام دشمن سازشوں کو بے نقاب کرنے اور مقدسات کی توہین کو روکنے کیلئے ہر مسلمان کو کردار ادا کرنا ہوگا،آج کے دور میں اسلاموفوبیا کے عنوان سے ملحدین، یہود و نصاری اور ان کے فکری ہمنواں کی جانب سے شانِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مقدساتِ اسلام کے خلاف جس جسارت، خباثت اور تہذیبی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت امتِ مسلمہ کے قلبِ ایمان، مرکزِ محبت اور محورِ عقیدت پر ایک منظم فکری یلغار ہے،یہ محض ایک مذہبی اختلاف نہیں بلکہ ایمان کی حرمت، غیرتِ دینی اور روحانی تشخص کے خلاف ایک تہذیبی و فکری محاذ آرائی ہے، ایسے نازک اور حساس حالات میں اہلِ اسلام اور محبانِ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ شعورِ ایمانی، بصیرتِ دینی اور وقارِ ملی کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں، منظم مگر پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دیں کہ ناموسِ رسالت ﷺ، ناموسِ قرآن اور ناموسِ آل و اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے ایمان کی اساس، ہماری غیرت کی حدِ فاصل اور ہماری ملت کی ناقابلِ عبور سرخ لکیر ہے۔