برصغیر کے نامور مجاہدِ آزادی اور قبائلی خطے کے عظیم رہنما فقیر ایپی کی 66ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

جمعرات 16 اپریل 2026 19:24

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اپریل2026ء) ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر لنڈی کوتل میں برصغیر کے نامور مجاہدِ آزادی اور قبائلی خطے کے عظیم رہنما فقیر ایپی (مرزا علی خان) کی 66ویں برسی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، جس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں آفتاب شینواری، پروفیسر سبیل خان، نجیب خارویچن، صدام حسین، وسیم اکرم ممتحن، ساجد شینواری، کلیم اللہ، عبید خان سمیت دیگر معززین شریک ہوئے۔

مقررین نے فقیر ایپی کی بے مثال جدوجہد، استقلال اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک روشن علامت قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مرزا علی خان نے نہایت کٹھن حالات میں برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے آزادی، خودمختاری اور وقار کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی قبائلی عوام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فقیر ایپی کی جدوجہد صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک تاریخی باب کی حیثیت رکھتی ہے جس نے پورے خطے میں بیداری پیدا کی۔ تقریب کے شرکاء نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنے قومی ہیروز کی زندگی، نظریات اور جدوجہد کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور ان کی روشنی میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو سنواریں ۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نوجوان اپنی زبان، ثقافت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے شعوری کردار ادا کریں۔

وسیم اکرم ممتحن نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کو صرف مقامی ہیروز ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عظیم رہنماؤں کی زندگیوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ وسیع النظری، برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دے سکیں۔ انہوں نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور نفرت کے رجحانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صبر، برداشت اور باہمی احترام ہی ایک روشن اور پرامن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

مقررین نے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول اور مطالعے کی عادت اپنانے کی بھی تلقین کی تاکہ وہ آنے والے وقتوں میں ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ واضح رہے کہ فقیر ایپی جن کا اصل نام مرزا علی خان تھا، وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک جری اور بااصول رہنما تھے ۔جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف طویل اور مستقل مزاج جدوجہد کی۔ ان کی خدمات اور قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور وہ ہمیشہ آزادی، حریت اور مزاحمت کی ایک لازوال علامت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

متعلقہ عنوان :