Live Updates

ہمیں نئے ، پرانے پاکستان کی بجائے ’’بہتر پاکستان‘ ‘کیلئے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا‘خواجہ عمران نذیر

بدھ 6 مئی 2026 20:25

ہمیں نئے ، پرانے پاکستان کی بجائے ’’بہتر پاکستان‘ ‘کیلئے اپنے حصے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) صوبائی وزیر برائے صحت و آبادی خواجہ عمران نذیرنے کہا ہے کہ ہم سب کو نئے اور پرانے پاکستان کی بجائے ’’ بہترپاکستان‘ ‘کے لئے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا، آپریشن بنیان مرصوص میں فتح مبین کے بعدگرین پاسپورٹ کی عزت میں اضافے، کرپشن کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ پنجاب یونیورسٹی صغریٰ بیگم سنٹر فار ایجوکیشن پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ، شعبہ جینڈرسٹڈیزا ور حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے صوبہ پنجاب میں ٹی بی کے خاتمے کے حوالے سے نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، پی ڈی صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر طلحہ خان شیروانی، پراجیکٹ مینجرڈاکٹر امبر الٰہی، چیئرپرسن شعبہ جینڈر سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر، ڈائریکٹر صغریٰ بیگم سنٹر فار ایجوکیشن پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سونیا عمر ، فیکلٹی ممبران اورطلبائوطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ تین چار سال پہلے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں کی جارہی تھی ،مگر ہماری سیاسی وعسکری لیڈر شپ کے فیصلوں نے نہ صرف ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد مقام پرپہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس انتہائی ہلکااورچھوٹا نیو کلیئر بم موجود ہے جو 40کلو میٹر تک ہر چیز کو نست و نابود کرسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بروقت ایٹمی دھماکے نہ ہوتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو بھی پتا ہے کہ ہم شام ، ایران یالبنان کی طرح نہیں بلکہ بھارت اوراسرائیل کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی سمیت دیگر موذی بیماریوں کے تدارک کے لئے جلدوزیر اعلیٰ پنجا ب مریم نوازبہت بڑے آگاہی پروگرام کا اعلان کریں گی ،جس میں شمولیت سے طلبہ کی تعلیمی استعداد کاراور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کے فروغ کے لئے کردار ادا کریں اورملک کے مثبت تشخص کا اجاگر کرنے کے لئے عملی کام کریں ۔انہوں نے کہا یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم مذہب اور سیاست کے نام پرنفرت اور تقسیم کی بجائے متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی قابل اور غیر متنازعہ شخص ہیںاور یقین ہے کہ اس تاریخی درسگاہ کو مزید خوشحال بنانے میں کردار ادا کریں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ یہ چار دن پاکستان میں یوم فتح کے ہیں جو ہمیں قومی اتحاد، عسکری و سیاسی لیڈرشپ کے ویژن اور عزم کی بدولت نصیب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران قوم کو کسی قسم کا خوف نہیں تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دشمن ہماری سرحد پارکرنے کی ہمت نہیںکرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، ایران جنگ میں پاکستان کا دنیا بھر میں امن کے سفیر کا تشخص اجاگر ہوا ہے جسے قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں شعبہ صحت و تعلیم میں اچھے کام ہورہے ہیں جن کی تعریف اورمعاونت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے آگاہی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کی تشخیص اور سدِباب کے لئے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈاکٹر طلحہ خان شیروانی نے کہا کہ اکثر بیماریاں خون سے لگتی ہیں مگر ٹی بی ہوا سے پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا شوگر، کینسراور فالج کے مریضوں میں ٹی بی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں تقریباً ہر شخص میں ٹی بی کا جرثومہ موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کنٹرول کے لئے سسٹم کو ڈیجیٹلائز اور اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔

پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شعبہ جینڈر سٹڈیز کے طلبہ ٹی بی کنٹرول پروگرام بارے آگاہی حاصل کرکے اس پروگرام کے سفیر بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو صحت مراکز کے ساتھ مل کراقدامات کرنا ہوں تاکہ ٹی بی کی علامات اور منتقلی بارے طلبہ کو بتایا جاسکے ۔ ڈاکٹر امبر الٰہی نے کہا کہ پاکستان کی 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی درست رہنمائی سے ٹی بی کنٹرول بارے گھر گھر پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔

انہوںنے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق صحت مند پنجاب کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی کا مریض دس تاپندرہ لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر سونیا عمر نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے بیشتر طلبائوطالبات کمیونٹی سروسز کے لئے کام کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا ہمیں یہ سمجھناہوگا کہ ٹی بی میڈیکل سے زیادہ سماجی مسئلہ ہے ۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات