موجودہ تقسیم شدہ عالمی ماحول میں اسلام کے حقیقی پیغام کو واضح اور موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ناگزیر ہے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا ’’پیغام اسلام‘‘ کانفرنس سے خطاب

بدھ 6 مئی 2026 19:43

موجودہ تقسیم شدہ عالمی ماحول میں اسلام کے حقیقی پیغام کو واضح اور موثر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے اسے امن، رواداری، برداشت اور انسانی وقار کا ضامن قرار دیا ہے۔ ’’پیغام اسلام‘‘ کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے معزز مہمانوں اور شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اہم اور بروقت کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک نہایت اہم موضوع پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام عدل، ہمدردی اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ تقسیم شدہ عالمی ماحول میں اسلام کے حقیقی پیغام کو واضح اور موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ناگزیر ہے۔

(جاری ہے)

چیئرمین سینیٹ نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ تصادم کے ذریعے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے اور مثبت روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے حالیہ علاقائی پیش رفت میں قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مدبرانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کیا جن کی کوششوں سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے امکانات کو تقویت ملی۔

چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی سفارتکاری کے حوالے سے اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے اس پلیٹ فارم کو عالمی مکالمے اور تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں حالیہ اجلاس جس کا موضوع ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ تھا، نے عالمی امن کے قیام میں پارلیمانوں کے کردار کو مزید مستحکم کیا۔

انہوں نے مسلم دنیا کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت افروز قیادت اور لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے تاریخی انعقاد کو مسلم امہ کے اتحاد کی بنیاد قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے عالمی فورمز جیسے او آئی سی، عرب لیگ، بین الپارلیمانی یونین اور پی یو آئی سی کے درمیان موثر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مکالمے، ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک مضبوط اور منظم فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

قومی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’آپریشن معرکہ حق‘‘ اور ’’بنیان مرصوص‘‘ کے تحت پاکستان کا ردعمل ایک متوازن، قانونی اور ذمہ دارانہ حکمت عملی کا مظہر ہے جس میں قومی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے امن کے عزم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مکالمے اور استحکام کو ترجیح دیتا ہے تاہم اپنی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک ایسے عالمی نظام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرے جو امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہو۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان نہ صرف اس مقصد کی حمایت کے لیے تیار ہے بلکہ اس میں عملی قیادت کا کردار ادا کرنے کا بھی عزم رکھتا ہے۔