قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں وبائی امراض پر سیمینار و پانچ روزہ ورکشاپ کا آغاز

پیر 20 اپریل 2026 21:01

گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اپریل2026ء) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار اور پانچ روزہ ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ سیمینار و ورکشاپ کا عنوان ’’پاکستان میں ویکٹر سے پھیلنے والے امراض پر مربوط تحقیقی تربیت: ویکٹر بائیولوجی، وائرولوجی اور بیماریوں کی وبائیات‘‘ ہے۔

یہ ورکشاپ 24 اپریل2026 تک جاری رہے گی جس میں ملک بھر سے محققین، ماہرین صحت عامہ اور اسکالرز شریک ہوں گے۔سیمینار و رکشاپ میں ماہرین بنیادی موضوعات جن میں ویکٹر سے پھیلنے والے امراض کا تدارک،سائنسی نقط نظر سے بیماریوں کے خاتمے کی حکمت عملی،موسم اور ملیریا کا تعلق،درج حرارت، بارش اور موسمی تبدیلیوں کا ملیریا کے پھیلاؤ پر اثر،جاپانی انسیفلائٹس وائرس،مویشیوں اور کتوں میں وائرس کے پھیلاؤ کا مطالعہ،ویکٹر بائیولوجی اور وائرولوجی،لیبارٹری تکنیک اور نگرانی کے جدید طریقے پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور محققین ڈیٹا پر مبنی تجزیے پیش کریں گے۔

(جاری ہے)

کے آئی یو اور اے کے یو ایچ کا یہ اشتراک ادارہ جاتی اور سائنسی کوشش ہے جو پاکستان کو ویکٹر سے پھیلنے والے امراض کے بڑھتے خطرے بالخصوص موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے درکار ہے۔پانچ روزہ پروگرام میں باقاعدہ لیکچرز کے ساتھ ساتھ عملی لیبارٹری اور فیلڈ ورکشاپس بھی شامل ہیں،جن سے نوجوان محققین اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کو ویکٹر بائیولوجی اور متعدی امراض کی وبائیات میں جدید تحقیقی طریقہ کار سے براہِ راست واقفیت حاصل ہو گی۔

سیمینار و ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرووسٹ و فوکل پرسن سیمینار ڈاکٹر قمر عباس،ڈاکٹر ارم خان،ڈاکٹر افضال،ڈاکٹر پیٹر و دیگر مقررین نے سیمینار ورکشاپ کو پاکستان کی سائنسی انسانی صلاحیت میں ایک بروقت اور ضروری سرمایہ کاری قرار دیااور ملیریا، ڈینگی اور انسیفلائٹس جیسے ویکٹر سے پھیلنے والے امراض سے نجات حاصل کرنے کے لیے پیش خیمہ قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جو علمی تحقیق اور عملی صحتِ عامہ کو یکجا کریں۔افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران،محکمہ صحت گلگت بلتستان،لائیوسٹاک اور ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ سمیت طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔