پنجاب یونیورسٹی میں ماڈل ایکواپانکس ماڈل سائٹ بنائیں گے‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی

منگل 21 اپریل 2026 22:01

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اپریل2026ء) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی ماڈل میں ایکواپانکس سائٹ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکوپانک کے فروغ سے فشریز کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو فش فارمرز کے لئے بھی معاشی بہتری کا باعث بنے گی۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف زووالوجی کے زیر اہتمام ایکواپانکس پر منعقد کی گئی ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر ورکشاپ کے چیف آرگنائز پروفیسر ایمریطس وسیکرٹری پنجاب چیپٹر، پاکستان اکیڈیمی آف سائنسز اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹرمحمد وحید اختر، ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر انجم نسیم صابری، ڈائریکٹر زووالوجی پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ روحی، سینئر اساتذہ، ، مختلف سرکاری اداروں کے نمائندے، جامعات سے سکالرز اور انڈسٹری سے نمائندوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں جدید تعلیم و تربیت کے نظام کے باعث ایگریکلچر گریجوایٹس تعلیم کو اینٹرپینورشپ اور ایڈوائزری کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکواپانکس مچھلیوں کی افزائش اور ان کے وزن میں تیزی سے اضافے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کنٹرولڈ زراعت کا نظام نہیں ہے جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کسان اس نظام سے کروڑوں روپے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

بدقسمتی سے آج بھی فلڈ اریگیشن کے ذریعے ہم اپنی فصلیں اگا رہے ہیں۔ ہمیں پائیدارزراعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پانی کی کمی کے باعث لوگ شہروں سے گاوں کی جانب ہجرت بھی کر سکتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے ورکشاپ کی فنڈنگ پر پاکستان اکیڈیمی آف سائنسز کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وحید اختر نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایکواپانکس کی تربیت دینے اور اس کے کمرشل بنیادوں پر فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈاکٹر نبیلہ روحی نے کہا کہ ورکشاپ میں شرکا کو ایکواپانکس کی مختلف جہتوں سے متعلق تربیت دلانے کے لئے ماہرین نے خصوصی لیکچر دئیے۔