نیوزی لینڈ میں51نمازیوں کے قاتل کی سزا کے خلاف اپیل مسترد

مجرم کی جانب سے سزا ختم کروانے کی کوشش بالکل بے بنیاد ہے ،عدالت کا فیصلہ

جمعرات 30 اپریل 2026 23:21

کینبرا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اپریل2026ء) نیوزی لینڈ کی عدالت نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کر کے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی شدت پسند برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم کی جانب سے سزا ختم کروانے کی کوشش بالکل بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی قانونی وزن نہیں پایا جاتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ملزم نے اپنی مرضی سے جرم قبول کیا تھا اور اس پر کسی قسم کا دبائو نہیں تھا۔یاد رہے کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجدالنور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹرپر فائرنگ کے اس ہولناک واقعے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 افراد شہید ہوئے تھے۔ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ قرار دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ملزم کو اگست 2020 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں پیرول (رہائی) کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔

اس نے حالیہ اپیل میں مقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے کے دوران قید کے حالات غیر انسانی تھے، جس کے باعث وہ درست فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھا، تاہم عدالت نے اس مقف کو مسترد کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مستحکم تھا اور اس کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جبکہ ماہرین اور جیل حکام کی رپورٹس بھی اس کے دعوے کے خلاف تھیں۔متاثرہ خاندانوں اور بچ جانے والے افراد کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو بڑی راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے انہیں دوبارہ مقدمہ چلنے کے ذہنی صدمے سے بچا لیا گیا ہے۔