ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن،جعلی شناختی کارڈز پر افغان شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے والا نیٹ ورک بے نقاب، 32.9 ملین روپے کا انکشاف

ہفتہ 2 مئی 2026 13:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 مئی2026ء) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر افغان شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے میں ملوث ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے غیر قانونی ہجرت سے منسلک 32.9 ملین روپے کے لین دین کو بے نقاب کر دیا۔ ایف آئی اے حکام نے ہفتہ کو اے پی پی کو بتایا کہ یہ نیٹ ورک غیر ملکی شہریوں بالخصوص افغان شہریوں کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں غیر قانونی سفر کے لیے جعلی شناختی دستاویزات اور سفری کاغذات فراہم کر کے سہولت فراہم کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ منظم نیٹ ورک مختلف سطحوں پر کام کرنے والے متعدد سہولت کاروں پر مشتمل ہے جو جعلی دستاویزات اور ویزا پروسیسنگ سے لے کر بیرون ملک روانگی تک پورے سلسلہ کو منظم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر نمبر 333/2025 کے تحت کیس کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک تین اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید کارروائی کے دوران ایک انسانی سمگلر/اسمگلر کو بھی پکڑا گیا جو اے ایچ ٹی سی اسلام آباد میں درج ایک مقدمے میں اشتہاری تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے کارروائی کے دوران 60 جعلی شناختی کارڈز، 12 جعلی پاسپورٹ، مینوئل لیجرز، گزیٹڈ افسران کے جعلی سٹیمپ، جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ اور دیگر مجرمانہ مواد برآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد ہونے والے 32.9 ملین روپے کے معاہدہ سے نیٹ ورک کی وسعت کا پتہ چلتا ہے جو افغان شہریوں کو جعلی پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے سعودی عرب کے لیے ورک ویزا حاصل کرنے میں سہولت فراہم کر رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ درجنوں غیر ملکی شہریوں کے ڈیٹا کے تجزیے سے مزید سہولت کاروں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک کے مکمل ڈھانچے کو بے نقاب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پاسپورٹ اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی لین دین اور بین الاقوامی روابط بھی زیر تفتیش ہیں جن میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ممکنہ پہلو بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں کیونکہ آپریشن تیز رفتاری سے جاری ہے۔