اردنی فوج کا شامی سرحد پر اسلحہ اور منشیات اسمگلروں کے خلاف آپریشن

کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی تاکہ منشیات اور اسلحے کی ترسیل کو روکا جا سکے،بیان

اتوار 3 مئی 2026 14:20

عمان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) اردن کی مسلح افواج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شام کے ساتھ شمالی سرحد پر اسلحہ اور منشیات کے اسمگلروں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔فوج کے بیان کے مطابق فجر کے وقت '' اردن کا روک تھام آپریشن'' کے تحت ان مقامات پر کارروائی کی گئی جو اسلحہ اور منشیات کے اسمگلروں کے زیرِ استعمال تھے۔

یہ کارروائی شمالی سرحدی علاقے میں کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ فوج نے ان ٹھکانوں کی نشاندہی خفیہ اور عملی معلومات کی بنیاد پر کی، جہاں ایسے گروہ اپنی فیکٹریاں، ورکشاپس اور گودام قائم کیے ہوئے تھے تاکہ وہاں سے منشیات اور اسلحہ اردن کی سرزمین میں اسمگل کیا جا سکے۔ ان تمام مقامات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

اردنی افواج کے مطابق کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی تاکہ منشیات اور اسلحے کی ترسیل کو روکا جا سکے۔

فوج نے یہ بھی کہا کہ اسمگلنگ میں ملوث گروہ نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں اور موسم اور خطے کی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔ان کے مطابق اسمگلنگ کی کوششوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس سے سرحدی سیکیورٹی فورسز کو بڑا چیلنج درپیش ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلح افواج آئندہ بھی کسی بھی خطرے کا پیشگی اور سخت جواب دیتی رہے گی تاکہ اردن کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ اردنی فوج نے شام کا نام واضح طور پر نہیں لیا، تاہم شامی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مبینہ اردنی فضائی حملوں نے السویدا صوبے میں ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا جہاں اسلحہ اور منشیات ذخیرہ کی گئی تھیں۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملے کم از کم پانچ قصبوں میں کیے گئے، جن میں عرمان کے علاقے میں موجود گودام بھی شامل تھے۔

متعلقہ عنوان :