وزیرِاعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی کے سافٹ لانچ سے اس مرض کے خاتمے کی ابتدا ہو گئی ، سید مصطفی کمال

نیشنل ڈیٹا بیس کی مدد سے پورے ملک میں سکریننگ کی جائے گی جس سے اس عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے گا، وزیر صحت

بدھ 13 مئی 2026 18:30

وزیرِاعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی کے سافٹ لانچ سے اس مرض ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 مئی2026ء) وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفی کمال نے وزیرِاعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی کے سافٹ لانچ سے اس مرض کے خاتمے کی ابتدا ہو گئی ہے ، نیشنل ڈیٹا بیس کی مدد سے پورے ملک میں سکریننگ کی جائے گی جس سے اس عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے گا۔وزیرِاعظم محمدشہباز شریف کے پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی کے سافٹ لانچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی باقاعدہ ابتدا ہو گئی ہے اور یہ دن اس قومی مشن کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے، دس برس سے جاری کوششوں کے بعد اس پروگرام کا عملی آغاز کیا جا رہا ہے، نیشنل ڈیٹا بیس کی مدد سے پورے ملک میں سکریننگ کی جائے گی جس سے اس عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک جان لیوا بیماری ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 6 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں جن میں سے ایک کروڑ مریض پاکستان میں موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 80 فیصد مریضوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں اور وہ لاعلمی میں اس بیماری کے کیریئر بنے ہوئے ہیں۔ مصطفی کمال نے کہا کہ اگر اس مرض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ لیور کینسر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا موجودہ نظامِ صحت شدید دباؤ اور انہدام کا شکار ہے اور ہمیں ‘‘ہیلتھ کیئر’’ کے بجائے ‘‘سک کیئر’’ سسٹم سے نکل کر حقیقی عوامی صحت کے نظام کی جانب جانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 12 سنٹرز سے ہیپاٹائٹس سکریننگ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، اس پروگرام کے تحت سات ہزار روپے مالیت کا ٹیسٹ اور 3 سے 6 ماہ تک کی ادویات مریضوں کو مفت فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ 67 ارب روپے کا قومی پروگرام ہے جس کا مقصد عوام کو مہلک بیماری سے محفوظ بنانا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ صحت کا معاملہ قومی سلامتی اور معیشت دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کیلئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہیپاٹائٹس مریض نہ صرف خود متاثر ہوتا ہے بلکہ پورا خاندان اور معاشرہ بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بروقت اپنی سکریننگ کروائیں تاکہ بیماری کو ناقابلِ علاج مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سکریننگ کرنے اور کروانے والے دونوں فریقین کو مکمل تعاون کرنا ہوگا تاکہ اس قومی مشن کو کامیاب بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جس ڈاکٹر کو روزانہ 30 مریض دیکھنے چاہئیں وہ ساڑھے تین سو مریض دیکھنے پر مجبور ہے جو نظامِ صحت پر غیرمعمولی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان دن رات محنت کر کے جلد ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرے گا۔