15 برس بعد اسامہ بن لادن آپریشن کے آخری 9 منٹوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

تربیتی مشقوں کے دوران زیرِ بحث آنے والے بدترین منظرناموں میں سے ایک حقیقت بن کر سامنے آگیا تھا، امریکی اہلکار

اتوار 3 مئی 2026 14:20

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) امریکی بحریہ کے سابق سپیشل فورسز(نیوی سیلز)کے اہلکار روبرت اونیل ، جو اسامہ بن لادن پر مہلک گولی چلانے کا دعوی کرتے ہیں، نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں 15 سال قبل امریکہ کی جانب سے کیے گئے خفیہ فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ٹیم کا محرک براہِ راست 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین سے وابستہ تھا۔

ایک انٹرویو میں رابرٹ اونیل نے کہا کہ اس مشن کا مقصد ان امریکیوں کا انتقام لینا تھا جو اس منگل کو ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ سپیشل فورسز کے ارکان شہرت یا انعامات کے خواہاں نہیں تھے بلکہ وہ القاعدہ کے خطرے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپیشل آپریشنز ٹیم کو مشن کی پہلی اطلاع اس پر عمل درآمد سے تین ہفتے قبل دی گئی تھی تاہم انہیں ہدف، ملک یا متوقع فوجی مدد کے حجم کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈروں نے شروع ہی سے واضح کر دیا تھا کہ یہ مشن حقیقی ہے کوئی مشق نہیں ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ منصوبے میں بن لادن کی رہائشی عمارت کے ہو بہو ماڈل پر سخت تربیت کے بعد تکنیکی طور پر تبدیل شدہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اہلکاروں کو اتارنے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ تاہم تربیت کے دوران زیرِ بحث آنے والے بدترین منظرناموں میں سے ایک اس وقت حقیقت بن گیا جب ایک ہیلی کاپٹر احاطے کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔

اس نے آپریشن کو اس کے ابتدائی لمحات ہی سے پیچیدہ بنا دیا۔رابرٹ اونیل نے بتایا کہ ٹیم کے ارکان اس امکان کے لیے تیار تھے کہ شاید وہ زندہ واپس نہ آئیں اور ان کے لیے سب سے مشکل لمحہ مشن پر روانگی سے قبل اپنے بچوں کو الوداع کہنا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ شاید وہ انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا رات 12:30 بجے لینڈنگ کے بعد پورا آپریشن صرف نو منٹ میں مکمل ہو گیا۔

فورسز دھماکہ خیز مواد یا مسلح مزاحمت کی توقع کے ساتھ عمارت میں داخل ہوئیں۔ بن لادن کے بیٹے کے ساتھ جھڑپ کے بعد ٹیم کے ارکان اوپری منزل تک پہنچ گئے جہاں القاعدہ کا سربراہ اپنی بیوی کے پیچھے کھڑا تھا۔رابرٹ اونیل نے کہا کہ انہوں نے بن لادن کو فورا پہچان لیا اور اسالٹ رائفل سے اس کے سر میں تین گولیاں ماریں۔ اس کا مقصد اسے خود کو دھماکے سے اڑانے یا جوابی حملے کی کسی بھی کوشش سے روکنا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ بن لادن کی ہلاکت کا اعلان کوڈ ورڈ جیرونیمو کے ذریعے کیا گیا جس کے بعد ٹیم نے احاطے کے اندر سے کمپیوٹر اور انٹیلی جنس دستاویزات جمع کرنا شروع کیں۔ تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تاکہ وہ پاکستانی حکام کے ہاتھ نہ لگ سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کا خطرناک ترین مرحلہ واپسی کا 90 منٹ کا فضائی سفر تھا جو پاکستانی حدود میں جنگی طیاروں کے ذریعے روکے جانے کے خوف میں گزرا۔

یہ خوف اس وقت تک رہا جب پائلٹ نے انہیں افغان فضائی حدود میں داخلے کی اطلاع دی اور اسے ٹیم کے ارکان نے اپنی نجات کا اصل لمحہ قرار دیا۔رابرٹ اونیل نے واحد ندامت کا اظہار اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اسے سمندر برد کرنے پر کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس عمل نے اسے امریکیوں کے سامنے علامتی عوامی احتساب سے محروم کر دیا۔ یاد رہے آپریشن نیپچون سپیئر 2 مئی 2011 کو اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کے حکم پر انجام دیا گیا تھا۔ اس آپریشن نے 11 ستمبر کے حملوں کے ذمہ دار القاعدہ کے رہنما کی تقریبا ایک دہائی پر محیط تلاش کا خاتمہ کر دیا تھا۔