پیرس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے تقریب

مسئلہ جموں و کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ، سفیر پاکستان ممتاز زہرا بلوچ

sahibzada atiq صاحبزادہ عتیق الر حمن بدھ 12 اگست 2026 19:28

پیرس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے تقریب
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست 2026ء) فرانس میں پاکستان کے سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔
تقریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر زور دیا گیا۔


فرانس کے دورے پر موجود چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، رانا محمد قاسم نون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے گزشتہ 79 برسوں کے دوران بے شمار قربانیاں دی ہیں جو رائیگاں نہیں جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔


پاکستان کی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے بنیادی حقوق مسلسل پامال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا تھا، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔


سفیر پاکستان نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔
تقریب سے دیگر مقررین نے بھی 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
تقریب میں فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔