آرگینک خوراک ،مصنوعات کی شرح نمو 10 سے 13 فیصد سالانہ ہے‘ نجم مزاری

عالمی سطح پر ایک سے دو فیصد شیئر ملنے پر پاکستان 2 سے 5 ارب ڈالر کی آرگینک کی برآمدات کر سکتا ہے

اتوار 3 مئی 2026 14:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان عالمی آرگینک مارکیٹ کا ایک سے دو فیصد شیئر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سالانہ 2 سے 5 ارب ڈالر کی برآمدات یقینی بنائی جا سکتی ہیں، آرگینک خوراک اور مصنوعات کی شرح نمو 10 سے 13 فیصد سالانہ ہے اور 2030 تک اس کی عالمی مارکیٹ کا حجم 600 سے 700 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپ اس مارکیٹ میں تقریباً 40 تا 45 فیصد حصہ رکھتے ہیں جبکہ ایشیا ء تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ شعبہ انتہائی اہم موقع رکھتا ہے کیونکہ یہاں زرعی زمین، موسمی تنوع اور نوجوان لیبر کی دستیابی موجود ہے۔

(جاری ہے)

اگر پاکستان موثرپالیسی اپنائے تو آرگینک زرعی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آرگینک فارمنگ کا رقبہ تاحال محدود ہے، جس کی بڑی وجوہات میں آگاہی کی کمی، مہنگی سرٹیفکیشن اور سپلائی چین کا کمزور ہونا شامل ہیں۔ کسانوں کو تربیت، عالمی معیار کی سرٹیفکیشن اور مارکیٹ تک رسائی نہ ملنا بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔مزید برآں حکومتی پالیسی، سبسڈی اور برآمدی سپورٹ کا فقدان اس شعبے کی ترقی کی رفتار کو سست کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی رجحان واضح ہے کہ صارفین اب صحت مند، کیمیکل فری اور ٹریس ایبل خوراک کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ آن لائن مارکیٹس اور سپر مارکیٹس کے پھیلا ئونے آرگینک مصنوعات کو عام صارف تک پہنچانا آسان بنا دیا ہے۔آنے والے برسوں میں آرگینک فارمنگ نہ صرف خوراک بلکہ معیشت اور ماحول کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرے گی اور اگر پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے تو زرعی برآمدات میں ایک نیا انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔