اسرائیلی ٹیلی کام نیٹ ورکس عالمی سطح پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف

پیر 4 مئی 2026 19:49

اوٹاوہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 مئی2026ء) ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کو گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا کے 10 سے زائد ممالک میں افراد کی نگرانی اور لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔کینیڈا میں قائم ڈیجیٹل ریسرچ گروپ سٹیزن لیب کی تحقیقات کے مطابق 1970 کی دہائی میں قائم نیٹ ورکس سے لے کر جدید 5 جی سسٹمز تک کو جدید اسپائی ویئر پروگرامز کے ذریعے ’ٹریکنگ ڈیوائسز‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز میں شائع ہونیوالی اس رپورٹ کے مطابق نومبر 2022 سے اب تک تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، ناروے، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سمیت 10 مختلف ممالک میں فون کی لوکیشن معلوم کرنے کی 15 ہزار 700 سے زائد کوششیں کی گئیں۔

(جاری ہے)

یہ کارروائیاں اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے انجام دی گئیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کوگنائٹ کی پیرنٹ کمپنی ویرنٹ نے کانگو کی جمہوریہ کے ایک سرکاری ادارے کو ای ایس 7 پر مبنی ’اسکائی لاک‘ نامی ٹریکنگ سسٹم فروخت کیا۔

مزید برآں، سوئٹزرلینڈ کی ٹیلی کام کمپنی فنک ٹیلی کام سروسز نے رے زون گروپ جیسی اسرائیلی نگراں کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ موبائل آپریٹرز کی نقالی کرتے ہوئے پرانے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کریں۔