ایف پی سی سی آئی کاپاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار

منگل 5 مئی 2026 20:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خسارہ مالی سال 2026کے پہلے 10ماہ میں 20.28فیصد اضافے کے ساتھ 32ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جوکہ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے،معاشی پالیسی سازوں سے اپیل ہے کہ ملکی ایکسٹرنل اکائونٹ کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے برآمدات کے شعبے کو فوری اور موثر مراعات دینا ناگزیر ہے۔

اپنے بیان میں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس بڑے فرق کے باعث پاکستان کی درآمدات اس کی برآمدات کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہو چکی ہیںجس سے تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے 26.59ارب ڈالر سے بڑھ کر 32ارب ڈالر ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

اپریل 2026ء کے دوران 4.07ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا ہے جوکہ گزشتہ 46ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ اپریل میں برآمدات 14.03فیصد اضافے کے ساتھ 2.48ارب ڈالر تک پہنچیں مگر اپریل میں بڑھتی ہوئیں ماہانہ درآمدات میں اضافے نے اس بہتری کو زائل کر دیا۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اپریل میں درآمدات سالانہ بنیاد پر 7.46فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 28.41فیصد اضافے کے ساتھ 6.55ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب سے درآمدی پابندیاں موثر ثابت نہیں ہوئیں ہیں۔ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ اگرچہ خدمات کے شعبے میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے جہاں جولائی تا مارچ کے دوران خسارہ 6.7فیصد کم ہو کر 2.15ارب ڈالر ہو گیا ہے اور برآمدات 17فیصد اضافے سے 7.35ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ہے تاہم ملکی معیشت کا اصل انحصار اشیا ء کی برآمدات پر ہے۔