کپواڑہ کے رہائشیوں کا میڈیکل کالج ہندواڑہ پر کام روکنے کے خلاف احتجاج

جمعرات 7 مئی 2026 12:56

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ضلع کپواڑہ کے کئی دیہات کے رہائشیوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندواڑہ پر کام روکنے کے خلاف پرامن احتجاج کیا ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے کہا کہ ہسپتال پر کام روکنے یا اس کی منتقلی کے حوالے سے ڈویڑنل کمشنر کشمیر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا جس سے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گنڈ چوگل نامی ایک گائوں کے رہائشی عبدالجبار وار نے کہا کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو حقیقت سے لاعلم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو غیر قانونی ہے۔ ہمارے علاقے کو صحت کی دیکھ بھال اور ترقی سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم نے بغیر کسی معاوضے کے500کنال سے زائد اراضی عطیہ کر کے اس منصوبے کے لیے قربانی دی ہے۔

ایک مقامی شہری عبدالرشید وار نے کہا کہ ہسپتال کا یہ منصوبہ بغیر کسی وجہ کے تعطل کا شکار ہے اور علاقے کے لوگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ اگر حکام کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو وہ فوری طور پر رپورٹ جاری کریں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ آنے والے دنوں میں اپنے احتجاج کو مزید تیز کریں گے۔