ہندواڑہ میڈیکل کالج کے کام کو روکنے پر مکینوں کا احتجاج، شفٹنگ کی مخالفت

جمعرات 7 مئی 2026 13:39

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع کپواڑہ کے کئی دیہات کے رہائشیوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندواڑہ پر کام روکنے کے خلاف پرامن احتجاج کیا ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے کہا کہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا جس سے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گنڈ چوگل سے عبدالجبار وار نے کہا کہ "ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ لوگ شفافیت کے مستحق ہیں۔کلنگم کے ایک مقامی احتجاجی محمد امین نے کہا، "ہم GMC کی نٹنسہ منتقلی کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ ہمارے علاقے کو صحت کی دیکھ بھال اور ترقی سے محروم کر دے گا، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے بغیر کسی معاوضے کے پانچ سو کنال سے زیادہ اراضی عطیہ کر کے اس منصوبے کے لیے قربانی دی ہے۔

(جاری ہے)

ایک مقامی عبدالرشید وار نے کہاکہ جب حکومت نے پہلی بار GMC کی تعمیر کے لیے گنڈ چوگل کے مقام کی منظوری دی، تو پورا گاؤں امید سے بھر گیا۔ کسانوں نے اپنی مرضی سے اپنی زمینیں خالی کر دیں، جو نسلوں سے کاشت کی جا رہی تھی۔ بہت سے لوگوں نے علاقے کو صاف کرنے کے لیے درخت بھی کاٹ دیے، اسے علاقے کی ترقی کے راستے کے طور پر دیکھتے ہوئے، عبدالرشید وار نے مزید کہا کہ ہم برسوں سے انتظار کر رہے ہیں لیکن پیش رفت کے بجائے یہ منصوبہ بغیر کسی واضح وجہ کے تعطل کا شکار ہے، جس سے ہمیں اذیت میں ڈال دیا گیا ہے۔

اگر حکام کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو وہ فوری طور پر رپورٹ جاری کریں اور کنفیوڑن دور کریں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ آنے والے دنوں میں اپنے احتجاج کو مزید تیز کریں گے۔