جامعہ گوادر کیطلبہ کا ساحل سمندر پر ڈھوریہ چاپڑہ کا مطالعاتی دورہ، مقامی کہانیوں اور مقامی علم سے آگاہی حاصل کی

جمعہ 8 مئی 2026 23:56

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 مئی2026ء) جامعہ گوادر کے شعبہ منیجمنٹ سائنسز اور اکنامکس کے تیسرے سمسٹر کے طلبہ کے لیے ایک مطالعاتی دورہ ساحل سمندر پر واقع معروف ڈھوریہ چاپڑہ میں منعقد کیا گیا۔ اس دورے کی نگرانی فیکلٹی ممبران مرزا غالب اور محبوب عادل نے کی۔ مطالعاتی دورے کا مقصد طلبہ کو کمیونٹی اسٹوری ٹیلنگ، مقامی و روایتی علم، اور ساحلی آبادی کے طرزِ زندگی سے عملی طور پر روشناس کروانا تھا۔

دورے کے دوران دو تجربہ کار ماہی گیروں، ناخوا رسول بخش کوچ اور ناخوا اکبر رئیس کو اپنے تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ روایتی علم نسل در نسل مشاہدے، تجربے اور زبانی روایات کے ذریعے منتقل ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ماہی گیری کے روایتی طریقوں کے بارے میں آگاہ کیا، جن میں سمندر کی لہروں کو سمجھنا، موسم کی صورتحال کا اندازہ لگانا، قدرتی نشانیوں کی مدد سے مچھلیوں کے مقامات کی پہچان کرنا، اور جدید آلات کے بغیر سمندر میں راستہ تلاش کرنا شامل ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ روایتی طریقے نہ صرف ساحلی ثقافت کا حصہ ہیں بلکہ مقامی لوگوں کی شناخت اور معاشی زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ماہی گیروں نے جدید ٹیکنالوجی کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی نے ماہی گیری کے عمل کو آسان اور مثر بنایا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں نئی نسل روایتی علم اور مقامی دانش سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

اس گفتگو نے طلبہ کو جدیدیت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے درمیان توازن کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ مطالعاتی دورہ میں طلبہ نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے عملی تعلیم، سماجی شمولیت، اور مقامی علم کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھا۔ اس دورے سے ان کی مشاہداتی، ابلاغی، اور تجزیاتی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا۔