سعودی عرب،تنزانیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں کی علیحدگی کاآپریشن کامیاب

جڑواں بچیوں کی والدہ شدت جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا،عرب ٹی وی

جمعہ 8 مئی 2026 20:00

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) سعودی عرب کے کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی طبی ٹیموں نی18 ماہ کی تنزانیہ کی جڑی ہوئی بچیوں نینسی اور نائس کاکامیاب آپریشن کر کے انہیں علیحدہ کر دیا۔یہ سرجری ریاض میں واقع کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کی گئی جو تقریبا 16 گھنٹے 30 منٹ جاری رہی۔آپریشن کا آخری مرحلہ مکمل ہونے پر کامیاب سرجری کے اعلان پر دل کو چھو لینے والے جذبانی مناظر دیکھنے میں آئے۔

جڑواں بچیوں کی والدہ شدت جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا۔سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ35 کنسلٹنس، ماہر ڈاکٹروں اور معاون عملے پر مشتمل ٹیم نے علیحدگی کا عمل دس مراحل میں مکمل کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دونوں بچیاں سینے کے نچلے حصے، پیٹ اور کولہے کے حصے میں جڑی ہوئی تھیں۔

نینسی اور نائس تنزانیہ کی تیسری جڑواں بچیاں ہیں جنہیں سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت علیحدہ کیا گیا۔یہ پروگرام 1990 میں شروع ہوا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 71 جڑواں بچوں کے آپریشن کیے جا چکے ہیں۔اب تک ٹیم نے پانچ براعظموں کے 28 ممالک سے آنے والے مجموعی طور پر 157 کیسز کا جائزہ لیا ہے۔فلپائنی جڑواں بچیاں کلیا اور موریس این کو گزشتہ ماہ ایک کامیاب سرجری کے ذریعے علیحدہ کیا گیا جو 18 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔