لیبیا کی حکومت کا سابق فرانسیسی صدر سے ایک کروڑ یورو ہرجانے کا مطالبہ

ہفتہ 9 مئی 2026 08:57

طرابلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 مئی2026ء) لیبیا کی حکومت نے فرانس کے سابق صدر نکولس سارکوزی اور 5 دیگر ملزمان سے 1 کروڑ یورو ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ العربیہ کے مطابق یہ مطالبہ 2007 کی انتخابی مہم کے دوران لیبیا سے غیر قانونی فنڈز وصول کرنے کے مقدمے میں کیا گیا ہے، جس کی سماعت پیرس کی اپیل کورٹ میں جاری ہے۔لیبیا کی دفاعی ٹیم نے عدالت سے تقریباً 50 لاکھ یورو مادی نقصان اور 50 لاکھ یورو اخلاقی نقصان کے بدلے طلب کیے ہیں، کیونکہ معمر قذافی کے دور میں عوامی فنڈز کی خرد برد سے لیبیائی عوام متاثر ہوئے تھے۔

یہ مقدمہ 2006 میں فرانسیسی لبنانی ثالث زیاد تقی الدین کے ذریعے ہونے والی مشتبہ رقوم کی منتقلی سے جڑا ہے، جن کے بارے میں استغاثہ کا خیال ہے کہ یہ سارکوزی کی مہم کے لیے خفیہ فنڈنگ تھی۔

(جاری ہے)

لیبیائی وکیل عصام التاجوری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جمعرات (7 مئی 2026) کو پیرس کی اپیل کورٹ میں دائر کی گئی یہ درخواست نئی نہیں بلکہ پرانے سول مطالبات کی توثیق ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ لیبیا کی درخواست فرانسیسی ضابطہ فوجداری کی "دفعہ 2" (جو متاثرہ فریق کو ہرجانے کے مطالبے کا حق دیتی ہے) اور تعزیراتِ فرانس کی ان دفعات پر مبنی ہے جو جرائم کے ذریعے حاصل کردہ رقم چھپانے اور بین الاقوامی کرپشن سے متعلق ہیں۔التاجوری کے مطابق لیبیا اب مضبوط ترین قانونی پوزیشن میں ہے کیونکہ فرانسیسی عدلیہ نے اسے "متاثرہ سول فریق" کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

اس سے لیبیا کو خفیہ تحقیقات تک رسائی اور براہ راست ہرجانے کے مطالبے کا حق مل گیا ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ خزاں 2026 میں متوقع ہے۔ لیبیا کے اثاثوں کی بازیابی کے دفتر کی نمائندگی کرنے والی فرانسیسی وکیل "کارول سپوٹ" اس معاملے کو محض ایک میڈیا اسکینڈل کے بجائے سرحد پار فنڈز کی واپسی کے ایک سنجیدہ کیس کے طور پر لڑ رہی ہیں۔کارول سپوٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 49.9 لاکھ یورو مادی نقصان کے طور پر دیے جائیں کیونکہ لیبیا کی ریاست کے عوامی فنڈز چرائے گئے، جبکہ 50 لاکھ یورو عوامی جذبات کو پہنچنے والے نقصان کے عوض ادا کیے جائیں۔

التاجوری نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کیس اب صرف لیبیا کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ منی لانڈرنگ اور سیاسی کرپشن کا ایک بین الاقوامی کیس بن چکا ہے۔