Live Updates

جدید دنیا غیر معمولی سیاسی اور تکنیکی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں تبدیلی اور بے چینی کی کیفیت نمایاں ہے ، مشاہدحسین سید

پاکستان کا سفارتی کردار ملک کو عالمی سطح پر امن اور مکالمے کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے، سینئرسیاسی رہنما کا کانفرنس سے خطاب

اتوار 10 مئی 2026 20:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 مئی2026ء) سینئرسیاسی رہنماسینیٹر مشاہد حسین سید نے کراچی میں ادارہ بین الاقوامی امور کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس Living on the Threshold of Global Crises کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مکالمے، سفارتکاری اور عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکالرز، سفارتکاروں، محققین اور پالیسی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر ادارے کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ادارے نے فکری اور پالیسی سطح پر خلیج کو کم کرنے اور عالمی سطح پر بامعنی مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دنیا غیر معمولی سیاسی اور تکنیکی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں تبدیلی اور بے چینی کی کیفیت نمایاں ہے اور معلومات کی ترسیل کی رفتار انتہائی تیز ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان کی تزویراتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی جغرافیائی حیثیت نے اسے عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، خصوصا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جیسے علاقائی معاملات میں ثالثی اور امن مذاکرات کے فروغ میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی کردار ملک کو عالمی سطح پر امن اور مکالمے کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے پاکستان بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کو بخوبی سمجھتا ہے اور علاقائی امن و عالمی استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔کانفرنس کے دوسرے روز ایٹمی عدم پھیلا، معلوماتی جنگ، بیانیے کے کنٹرول اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر مختلف نشستیں منعقد ہوئیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر اے ایچ نیئر اور ڈاکٹر احمد اعجاز ملک نے اسلحہ کنٹرول کے نظام کے خاتمے اور نئی عالمی پالیسیوں پر گفتگو کی۔Information Wars and Narrative Control کے عنوان سے منعقدہ نشست میں، جس کی صدارت زہرہ یوسف نے کی، غلط معلومات، ڈیپ فیک اور منظم بیانیوں کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صحافی ضرار کھوڑو نے علاقائی اور عالمی معلوماتی جنگ، سنسرشپ اور پروپیگنڈا و جعلی خبروں کے بڑھتے ہوئے اثرات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معاشرے معلومات، غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات کے سیلاب میں گھر چکے ہیں۔صحافیوں اور سول سوسائٹی کے تحفظ سے متعلق نشست میں مہمل سرفراز نے بالخصوص فلسطین سمیت تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اب نیا معمول بن چکی ہیں، جبکہ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہراسانی، آن لائن ٹرولنگ اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاری تنازع کے دوران فلسطینی صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کانفرنس کا اختتام ڈاکٹر معصومہ حسن کے اختتامی کلمات پر ہوا، جنہوں نے عالمی بحرانوں اور بین الاقوامی چیلنجز پر گفتگو میں شرکت کرنے والے مندوبین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات