ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ کے برطانوی مسافروں کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا

پیر 11 مئی 2026 08:22

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 مئی2026ء) ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” سے واپس آنے والے 20 برطانوی شہریوں کو اتوار کے روز شمال مغربی انگلینڈ کے ایک اسپتال میں قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ برطانوی حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔شنہوا کے مطابق مسافر مانچسٹر پہنچنے کے بعد بسوں کے ذریعے مرسی سائیڈ کے علاقے ویرل میں قائم ایرو پارک اسپتال منتقل کیے گئے، جہاں انہیں 72 گھنٹے تک طبی نگرانی میں رکھا جائے گا۔

مقامی نیشنل ہیلتھ سروس (ایک ایچ ایس ) حکام نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تمام افراد کا طبی معائنہ اور ٹیسٹنگ ایک منظم ماحول میں کی جائے گی۔ اگر ان میں بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئیں تو انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم مزید 42 دن تک خود کو الگ تھلگ رکھنا ہوگا۔

(جاری ہے)

برطانوی حکومت کے مطابق “ایم وی ہونڈیئس” سے واپس آنے والے تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کو مجموعی طور پر 45 دن نگرانی اور آئسولیشن کے عمل سے گزرنا ہوگا، جبکہ ممکنہ متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کم از کم آٹھ تصدیق شدہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ تین ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ادھر برطانوی حکومت نے جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع دور افتادہ برطانوی علاقے “ٹرسٹن دا کونہا” میں بھی خصوصی فوجی و طبی ٹیم روانہ کر دی ہے، جہاں ایک برطانوی شہری میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے چھ پیرا ٹروپرز اور دو فوجی ڈاکٹر پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر اتارے گئے، جبکہ طبی سامان اور آکسیجن بھی فضائی راستے سے فراہم کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے خطرے کی سطح تاحال “انتہائی کم” ہے، تاہم احتیاطی تدابیر جاری رکھی جائیں گی۔

متعلقہ عنوان :