چین کی انٹیلی جینٹ کنیکٹڈ نیو انرجی وہیکل کے لیے ٹیسٹنگ مرکز کی تعمیر شروع

پیر 11 مئی 2026 12:57

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 مئی2026ء) چین کے چائنا آٹوموٹیو ٹیکنالوجی اینڈ ریسرچ سینٹر کمپنی لمیٹڈ نے شمالی چین کے علاقے منگولیا میں انٹیلی جینٹ کنیکٹڈ نیو انرجی وہیکل کے لیے برف اور برفانی حالات میں ٹیسٹنگ کے ایک بڑے مرکز کی تعمیر شروع کر دی ہے، جو اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہوگا۔ شنہوا نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کے حوالے سے بتایا کہ یہ سہولت 2028 میں آپریشنل ہوگی اور یہ دنیا کا پہلا ایسا ٹیسٹنگ مرکز ہوگا جو مصنوعی برف باری کے ذریعے اندرونی ماحول میں جانچ کی سہولت فراہم کرے گا۔

یہ گاڑیاں نئی توانائی، جدید کنیکٹوٹی، خودکار ڈرائیونگ اور سمارٹ سسٹمز کو یکجا کرتی ہیں، جس سے روایتی گاڑیاں جدید ذہین نظاموں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

تقریباً 67 ہیکٹرپر مشتمل یہ مرکز نئی توانائی والی گاڑیوں کے بیٹری، موٹر، الیکٹرانک کنٹرول اور چیسس سسٹمز کی جانچ کے ساتھ ساتھ مصنوعی برف باری اور اڑنے والی گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کے لیے بھی استعمال ہوگا۔

چائنا آٹوموٹیو ٹیکنالوجی اینڈ ریسرچ سینٹر کمپنی لمیٹڈ کے نائب صدر لی وی نے بتایا کہ یہ منصوبہ شدید سرد موسم میں گاڑیوں کی جانچ کے اہم مسائل کو حل کرے گا اور عالمی معیار کی ٹیسٹنگ سہولیات فراہم کرے گا۔ ہولون بوئر شہر کے نائب میئر ون جنلے نے کہا کہ یہ مرکز برف اور برفانی معیشت کو آٹو موٹیو ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر ’’برف + ٹیکنالوجی‘‘ ماڈل کو فروغ دے گا۔چین کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جہاں 2025 میں پیداوار اور فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔تاہم، سرد موسم میں ان گاڑیوں کی کارکردگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اور یہ نیا مرکز اس مسئلے کے حل کے لیے ایک سائنسی اور کنٹرول شدہ ٹیسٹنگ نظام فراہم کرے گا۔ ■