وفاقی تحقیقاتی ادارہ میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر 200 سے زائد اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ، سینٹ کو آگاہی

منگل 12 مئی 2026 19:10

وفاقی تحقیقاتی ادارہ میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر 200 سے زائد اہلکاروں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مئی2026ء) سینٹ کو بتایاگیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی ای)میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر 200 سے زائد اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ منگل کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مختلف ضمنی سوالات کے جواب دیتے ہوئے ایوان کو آگاہ کیا کہ بعض ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر انہیں ملازمت سے بھی برطرف کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکانٹیبلٹی (ڈی آئی ای)کو ادارے کے اندر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، ادارہ جاتی شفافیت کے تحفظ اور احتسابی اقدامات کے نفاذ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ امیگریشن معاملات میں اختیارات کے ناجائز استعمال، مسافروں کو بلاجواز آف لوڈ کرنے یا انسانی سمگلروں سے گٹھ جوڑ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت احتسابی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ 2025کے دوران ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے امیگریشن سے متعلق اختیارات کے ناجائز استعمال پر 85 اہلکاروں کو سزائیں دیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا عمل ہرگز من مانی یا بلاجواز نہیں ہوتا بلکہ مقررہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف انہی مسافروں کو آف لوڈ کیا جاتا ہے جن کے حوالے سے تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد بھی سنگین خدشات برقرار رہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ انٹیگریٹڈ کنٹرول، کمپلینٹس اینڈ کمیونیکیشن سینٹر میں ایک نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت ای میل کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کو چوبیس گھنٹے فوری طور پر متعلقہ امیگریشن چیک پوسٹس کو بھجوایا جاتا ہے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور حکومت نے ان کی سہولت کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، اس مقصد کے لئے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے فوری حل کے لئے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں دعوی کیا جا رہا تھا کہ خلیجی ممالک خصوصا متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کو بغیر کسی وجہ کے ڈی پورٹ نہیں کیا جاتا۔