Live Updates

ایران سے سستی گیس کا معاہدہ ہونے کے باوجود گیس کیوں نہیں خریدی جاتی؟

فی لیٹر پیٹرول پر 170 روپے لیوی ٹیکس کے ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے، پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف 15مئی کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج کریں گے، حافظ نعیم الرحمن

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 12 مئی 2026 19:40

ایران سے سستی گیس کا معاہدہ ہونے کے باوجود گیس کیوں نہیں خریدی جاتی؟
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 12 مئی 2026ء ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جمعہ پندرہ مئی کو پٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کے خلاف اسلام آباد میں بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی دارلحکومت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے احتحاج کی خود قیادت کرنے اور اس موقع پر آئندہ کا لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کہیں اور نہیں وفاقی دارلحکومت میں ایک طرف غریبوں کی بستیاں گرائی جارہی ہیں اور اشرافیہ کے لئے غیر قانونی طور پر تعمیرشدہ ٹوئن ٹاور“ون کانسٹی ٹیوشن”کو بجایا جارہا ہے۔ اس سے ہمارے حکمرانوں ہی نہیں عدل کانظام عدل چلانے والوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ہماری جدوجہد کے سبب یہ دہرا نظام تادیر نہیں چلے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی نہ کی اور پٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم نہ کیا تو جماعت اسلامی کے پاس پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کا آپشن (Option) بھی موجود ہیں۔ انہوں نے عوام خصوصی طور پر نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبر شپ مہم کے اہداف کے حصول کے بعد جماعت اسلامی پورے ملک میں بڑی احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں متوسط طبقہ، مزدوروں، طلبا کے پاس ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں، ان میں سے ایک کروڑ موٹر سائیکل سوار روزانہ ایک لیٹر پٹرول بھی استعمال کریں تو یہ حکومت کو پانچ سو سے چھ سو ارب ٹیکس دیتے ہیں۔ حکمرانوں نے بجلی کے بلوں پر مختلف اقسام کے ٹیکس لگا کر عوام سے گزشتہ تین برسوں میں انیس کھرب ٹیکس اکٹھا کیا، تنخواہ دار طبقہ نے گزشتہ برس پانچ سو ارب سے زائد ٹیکس دیا۔

حکومت بتائے کہ جاگیرداروں سے کتنا ٹیکس لیا ہے؟ 
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کہ حکمران قوم پر عذاب ہیں، یہ عوام کا خون نچوڑ کر خود عیاشیاں کررہے ہیں، مریم نواز نے گیارہ ارب کا جہاز لے لیا، چیئرمین سینٹ کے لیے نو کروڑ کی گاڑی خرید لی گئی۔ حکمرانوں نے ٹیکس کے اہداف غریب عوام کا خون نچوڑ کر ہی حاصل کرنے ہیں تو ایف بی آر کا محکمہ کس لیے ہے؟ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نااہلوں کا ٹولہ ہے، حکمران وسائل پر قابض ہیں، یہ نااہل ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن میں بھی ملوث ہیں، آئی پی پیز کے مالکان حکمران پارٹیوں کا حصہ ہیں، حکومت ایک طرف عوام کو مہنگی بجلی دے رہی ہے، دوسری طرف آئی پی پیز کو سالانہ دوہزار ارب بجلی نہ بنانے پر دیا جاتا ہے، ایل این جی کی قیمت میں گزشتہ چند ماہ میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے، ایل پی جی کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، ایران سے سستی گیس کا معاہدہ ہونے کے باوجود گیس کیوں نہیں خریدی جاتی؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے بعد حکومت نے سو میں سے سترہ کے قریب آئی پی پیز سے ہمارے مطالبات کے مطابق نرم شرائط پر معاہدے  کیے، افسوسناک امر یہ ہے کہ باقی پر کام روک دیا گیا، اب حکمران آئی پی پیز معاہدوں کی مدت ختم ہونے کا انتظار کررہے ہیں، یہ ان سے سستی بجلی کے معاہدے کبھی نہیں کریں گے، یہ مل کر ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی اس ظلم پر خاموش نہیں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول کی فی لیٹر  قیمت چارسو پندرہ روپے ہیں، جب کہ ایکس ریفائنری (Ex-Refinery) قیمت دو سو ستر روپے ہونی چاہیے۔ حکومت فی لٹیر  پٹرول پر ایک سو سترہ روپے لیوی لیتی ہے، یہ لیوی کو ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے استعمال کررہے ہیں اور آئی ایم ایف سے عوام کے ساتھ اس ظلم کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، جماعت اسلامی اس ظلم و ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔ عوام اپنے حق کے لیے منظم اور متحد ہوکر جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، ہم پرامن مزاحمت پر یقین رکھتے ہیں۔  
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات