زراعت اور انڈسٹری کے شعبے کو نئی ترمیم میں وفاق کو واپس کیا جائی؛ صدر خواجہ محبوب الرحمن

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) پاکستان بزنس فورم نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں معیشت سے متعلق بنیادی اصولوں کو شامل کرنے اور زرعی و صنعتی شعبوں کی وفاقی سطح پر واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستان بزنس فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے اپنے خط میں مقف اختیار کیا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت اور صنعت جیسے کلیدی شعبوں کو صوبوں کے حوالے کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

ان کے مطابق اس پالیسی کے بعد ملک میں یکساں معاشی حکمتِ عملی اور مربوط فیصلہ سازی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اقتصادی چیلنجز نے جنم لیا ہے۔خط میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم سے قبل پاکستان میں کپاس کی سالانہ پیداوار تقریبا 12 ملین بیلز تھی جو اب کم ہو کر تقریبا 5 ملین بیلز تک رہ گئی ہے۔

(جاری ہے)

اسی طرح گندم کی پالیسی میں ابہام، درآمدی بحران اور بین الصوبائی رابطہ کاری کی کمزوری جیسے مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے مجموعی زرعی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان بزنس فورم نے مقف اختیار کیا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں بھی زرعی شعبہ عموما وفاقی سطح پر منظم ہوتا ہے تاکہ یکساں پالیسیوں کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ فورم کے مطابق پاکستان میں بھی زراعت اور صنعت جیسے اہم شعبوں کو دوبارہ وفاق کے تحت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملک بھر میں ایک مربوط اور یکساں معاشی حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔صدر پاکستان بزنس فورم نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ بزنس کمیونٹی طویل المدتی اور مستحکم معاشی پالیسیوں کی خواہاں ہے، اور پارلیمان کو چاہیے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے معیشت کے بنیادی اصولوں کو بھی واضح طور پر متعین کرے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں مالیاتی نظم و ضبط، روپے کی قدر کے استحکام، اور طویل المدتی معاشی پالیسیوں کو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ فورم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ موجودہ نظام میں وفاقی اور صوبائی قوانین میں تضادات کے باعث کاروباری طبقہ، کسان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز واضح سمت سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک کا کاشتکار اور کاروباری طبقہ بنیادی پالیسی رہنمائی کے لیے وفاق کی طرف دیکھتا ہے، لیکن موجودہ تقسیمِ اختیارات کے باعث صوبوں کے پاس ان شعبوں میں یکساں ریلیف دینے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔پاکستان بزنس فورم کے مطابق اگر آئندہ آئینی ترمیم میں معیشت سے متعلق بنیادی اصولوں کو شامل کیا جائے تو اس سے نہ صرف پالیسیوں میں تسلسل آئے گا بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک واضح اور قابلِ عمل سمت بھی میسر ہوگی، جس کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔