استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضوابط کی ضرورت
یو این
جمعرات 14 مئی 2026
23:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے زور دیا ہے کہ خوراک کی پیکنگ میں استعمال ہونے والے ری سائیکل شدہ پلاسٹک کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے دنیا بھر میں یکساں معیارات مقرر کیے جانا چاہئیں۔
ادارے نے خوراک میں پلاسٹک کی آلودگی سے متعلق اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کچرے کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے پلاسٹک کی تیزی سے ری سائیکلنگ کر رہے ہیں۔
اگرچہ ری سائیکل شدہ پلاسٹک اور پیکنگ میں استعمال ہونے والا مواد کچرے میں کمی لا سکتے ہیں لیکن انہیں انتہائی احتیاط سے استعمال کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر نقصان دہ کیمیکل خوراک میں شامل ہو سکتے ہیں۔'ایف اے او' سے وابستہ ماہر وٹوریو فٹوری نے کہا ہے کہ پلاسٹک کا کچرا دنیا بھر میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔
(جاری ہے)
اگرچہ اس سے نمٹنے کے لیے بہتر ری سائیکلنگ ضروری ہے مگر اس عمل سے صحت عامہ کے لیے نئے خطرات پیدا نہیں ہونے چاہییں۔
رپورٹ کے اہم نکات
- ری سائیکل شدہ پلاسٹک کچرے میں کمی لا سکتا ہے مگر خوراک کی حفاظت کے لیے اس عمل کی کڑی نگرانی ضروری ہے۔
- مناسب صفائی اور قواعد و ضوابط کے بغیر ری سائیکل شدہ پلاسٹک میں آلودگی کی بڑی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔
- منظور شدہ اور اچھی طرح صاف کیا گیا ری سائیکل شدہ پلاسٹک نئے پلاسٹک جتنا ہی محفوظ ہو سکتا ہے۔
- پیکنگ کے متبادل مواد میں بھی زہریلے مادوں، الرجی اور کیمیائی اضافوں جیسے خطرات موجود ہوتے ہیں۔
- تحفظ کو یقینی بنانے اور بڑے پیمانے پر قبولیت کے لیے یکساں بین الاقوامی معیارات ناگزیر ہیں۔
پلاسٹک کی محفوظ ری سائیکلنگ
خوراک کی پیکنگ اشیا کے معیار کو برقرار رکھنے، ان کی مدت استعمال بڑھانے اور خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا میں اس شعبے کی منڈی تیزی سے ترقی پا رہی ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 میں اس کا حجم 815 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو 2024 میں 505 ارب ڈالر تھا۔ اب تک دنیا بھر میں پلاسٹک کے صرف 10 فیصد سے بھی کم کچرے کو ری سائیکل کیا جا سکا ہے، تاہم آئندہ برسوں میں اس میں اضافے کی توقع ہے۔خوراک کی پیکنگ میں استعمال کے لیے پلاسٹک کو ری سائیکل کرنا پیچیدہ کام ہے کیونکہ ایسے مواد کو سخت کیمیائی حفاظتی معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔
پلاسٹک کی پیکنگ میں ہزاروں قسم کے کیمیائی مادے شامل ہو سکتے ہیں جن میں سٹیبلائزر، رنگ، اور پلاسٹک کو نرم رکھنے والے اجزا قابل ذکر ہیں۔تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ ری سائیکل شدہ پلاسٹک میں دھاتوں، آگ کو روکنے والے کیمیکل، فتھیلیٹس اور دیرپا آلودہ مادوں کی مقدار نئے پلاسٹک کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ری سائیکل شدہ پلاسٹک کو مکمل صفائی، جراثیم کشی اور سخت نگرانی کے مراحل سے گزارا جائے تو وہ نئے پلاسٹک جتنا ہی محفوظ ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، یورپی یونین میں خوراک سے متعلق ری سائیکل شدہ مواد پر وہی حفاظتی اصول لاگو ہوتے ہیں جو نئے پلاسٹک پر ہوتے ہیں۔'ایف اے او' نے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں دائروی معیشت کے طریقہ کار کو نہایت احتیاط سے نافذ کرنا ہو گا تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور خوراک کی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رہے۔
متبادل مواد سے لاحق خطرات
رپورٹ میں پیکنگ کے لیے متبادل چیزوں، جیسا کہ بائیو پلاسٹک، نباتاتی فائبر اور پروٹین پر مبنی مواد کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ عام طور پر انہیں ماحول دوست قرار دیا جاتا ہے لیکن بائیو بیسڈ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ قدرتی طور پر آسانی سے تحلیل ہو سکتے۔ ایسے بعض مواد عام پلاسٹک جیسے ہی ہوتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں جنہیں ختم ہونے کے لیے مخصوص ماحول درکار ہوتا ہے۔
ایسے متبادل مواد سے بھی کئی طرح کے خطرات وابستہ ہیں۔ نباتاتی مواد میں زرعی ادویات کے باقیات، قدرتی زہریلے مادے، پھپھوندی سے پیدا ہونے والے زہر یا بھاری دھاتیں موجود ہو سکتی ہیں جبکہ پروٹین پر مبنی پیکنگ خوراک میں گلوٹین جیسے الرجی پیدا کرنے والے اجزا منتقل کر سکتی ہے۔ متبادل مواد میں بھی کیمیائی اضافے بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کے طویل المدتی اثرات کے بارے میں خاطر خواہ معلومات موجود نہیں ہیں۔
اسی لیے، ماہرین نے زور دیا ہے کہ روایتی پلاسٹک کی طرح ان کی بھی سخت حفاظتی جانچ ضروری ہے۔مائیکرو اور نینو پلاسٹک کا مسئلہ
مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک بھی بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات انسانی خون، پھیپھڑوں، ماں کے دودھ اور یہاں تک کہ نومولود بچوں کی نوال میں بھی پائے گئے ہیں۔ تاہم انضباطی اداروں کے پاس اب تک ان ذرات کی پیمائش کے معیاری طریقے موجود نہیں جس کے باعث صحت پر ان کے اثرات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ری سائیکلنگ کے بعض طریقے بالخصوص مکینیکل ری سائیکلنگ پلاسٹک کو مزید چھوٹے ذرات میں توڑ کر مائیکرو پلاسٹک پیدا کر سکتے ہیں۔
'ایف اے او' نے زور دیا ہے کہ ری سائیکلنگ کے نظام کو موثر نگرانی کے تحت چلایا جانا ضروری ہے جس میں مکمل صفائی اور آلودہ مواد کو ہٹانے کے اقدامات شامل ہوں۔
یہ نتائج عالمی غذائی معیارات مرتب کرنے والے ادارے 'کوڈیکس ایلیمنٹیرئس کمیشن' کے آئندہ اجلاسوں میں زیر بحث آئیں گے۔ اس وقت مختلف ممالک ری سائیکل شدہ پلاسٹک اور خوراک سے متعلق مواد کے لیے مختلف قوانین سے کام لے رہے ہیں جس کے باعث تجارت اور صارفین کے تحفظ سے متعلق مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں
-
حدیقہ کیانی کو ستارۂ امتیاز سے نواز دیا گیا
-
ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں
-
بلاول بھٹو نے سرعام شازیہ مری کو سخت لہجے میں ڈانٹ دیا
-
افغانستان: جسمانی سزاؤں میں اضافہ، توہین طالبان بھی قابل تعزیر
-
سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش
-
اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ
-
استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضوابط کی ضرورت
-
غزہ: اسرائیل کا پولیس کو نشانہ بنانا جنگی جرم، انسانی حقوق دفتر
-
افغانستان غذائی قلت: یو این ادارہ زندگی سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مصروف
-
غزہ: ملبے کے ڈھیر سے سمندر میں جزیرے بنانے کا منصوبہ
-
ملک کی معاشی صورتحال سنگین ہے معاشی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہی نظر آرہا ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.