سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش

یو این جمعرات 14 مئی 2026 23:00

سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی انتظام اور مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ براعظم افریقہ بین الاقوامی اداروں میں نمائندگی، مالی معاونت اور موسمیاتی خطرات کے حوالے سے تاریخی ناانصافیوں کا شکار ہے۔

انہوں نے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی مشترکہ کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونین افریقہ میں کثیرالفریقی تعاون کے حوالے سے اہم رہنما اور ترقی پذیر دنیا کے لیے انصاف کی اجتماعی آواز ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے امن، ترقی، موسمیاتی اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے شعبوں میں افریقی ترجیحات کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

اس کانفرنس کے دوران مستقبل کے لیے شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی اور براعظم میں جنگ و تشدد کا خاتمہ کرنے پر بات چیت ہوئی۔

تعاون کا نیا اعلامیہ

سیکرٹری جنرل اور افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے ایک نئے اعلامیے پر دستخط کیے جس کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنا اور رابطہ کاری کے نظام کو باضابطہ صورت دینا ہے۔

اس موقع پر انتونیو گوتیرش نے زور دیا کہ افریقہ کی ترجیحات اب عالمی سیاسی مباحث میں زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے 2024 میں منظور کیا جانے والا 'معاہدہ برائے مستقبل' خاص طور پر اہم ہے جس میں علاقائی تنظیموں کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نمائندگی سے مسلسل محرومی ایک تاریخی ناانصافی ہے۔

یہ صرف مراعات یا علامتی نمائندگی کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کا سوال ہے کہ سلامتی کونسل جائز اور موثر طور سے اپنے مقصد کے مطابق کام کر سکے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کے دوران وہ افریقہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

مالیاتی اصلاحات کے لیے افریقی کوششیں

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ براعظم افریقہ قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور ماحول دوست توانائی کے تیزی سے پھیلتے شعبےکی بدولت بے شمار امکانات رکھتا ہے۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ افریقی یونین کے 'ایجنڈا 2063' اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار اب بھی بہت سست ہے۔

انہوں نے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ افریقی ممالک کو مناسب نمائندگی اور مدد فراہم کرنے میں ناکام ہے جبکہ کئی حکومتیں بھاری قرضوں اور بلند شرح سود کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔

دنیا کو ایسے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کو تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی تین گنا زیادہ مہنگی بنا دیتا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے افریقی قیادت میں ہونے والی حالیہ کوششوں کا خیرمقدم کیا جن میں افریقی ترقیاتی بینک کی جانب سے ترقی کے لیے نئے مالیاتی ڈھانچے کے قیام کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں، انہوں نے افریقی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے قیام کی بھی حمایت کی اور کہا کہ موجودہ عالمی ریٹنگ سسٹم عام طور پر ترقی پذیر ممالک کو سستے قرضوں تک رسائی سے محروم رکھتا ہے۔

افریقہ اور موسمیاتی تبدیلی

انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم کردار کے باوجود افریقہ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

افریقہ کو خشک سالی، سیلاب اور انسانی بحرانوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ عالمی حدت میں 1.5 ڈگری اضافے کی حد عبور ہونا اب تقریباً ناگزیر ہے لیکن یہ ناقابل واپسی نہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ افریقہ 2040 تک قابل تجدید توانائی کے میدان میں عالمی طاقت بن سکتا ہے اور اپنی ضرورت سے دس گنا زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طرح تقریباً 60 کروڑ افریقیوں کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کمزور بنیادی ڈھانچے، زیادہ لاگت اور نازک سپلائی چین جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے افریقہ کی مزید مدد ہونی چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے فنڈ کو تین گنا بڑھائیں اور نقصان و تباہی کا ازالہ کرنے کے فنڈ میں بھی اپنا حصہ بہتر کریں تاکہ افریقی ممالک موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹ سکیں۔

آخر میں انہوں نے افریقہ کے وسیع قدرتی وسائل کا استحصال روکنے اور مقامی صنعتوں و پراسیسنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ براعظم افریقہ کے ممالک کے لیے اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے اور عالمی ویلیو چین میں آگے بڑھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ اب ان کا مزید استحصال اور ان کے وسائل کی مزید لوٹ مار نہیں ہونی چاہیے۔