افغانستان: جسمانی سزاؤں میں اضافہ، توہین طالبان بھی قابل تعزیر
یو این
جمعرات 14 مئی 2026
23:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام نے رواں سال کے پہلے تین ماہ میں کم از کم 312 افراد کو عدالتی احکامات پر جسمانی سزائیں دیں جن میں 39 خواتین اور چار لڑکے بھی شامل ہیں۔
ادارے کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک نئے اور وسیع حکم نامے کے ذریعے سزائے موت کے دائرہ کار کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جس کے تحت حکومت سے اختلاف رائے بھی جرم ہو گا۔
عدالتوں کے فوجداری قواعد سے متعلق فرمان 12 جنوری میں تمام منصفین کو بھیجا گیا تھا جس کے تحت توہین مذہب، الحاد اور فساد میں مسلسل ملوث رہنے پر بھی سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس حکم کے مطابق، طالبان حکام یا ان کی شرعی تشریح پر تنقید کرنا بھی قابل سزا جرم قرار ہے۔
(جاری ہے)
میڈیا پر سختی
ایسے 'جرائم' پر دی جانے والی سزاؤں میں کوڑے مارنے سے لے کر کئی سال تک قید شامل ہے۔
یہ سزائیں خاص طور پر ان افراد کے لیے ہیں جو 'طالبان رہنماؤں کی توہین' میں ملوث ہیں یا ان کے مخالفین بارے اطلاعات فراہم نہیں کرتے۔افغانستان
میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن(یوناما) نے اس عرصہ کے دوران 'امر بالمعروف و نہی عن المنکر' پولیس کی جانب سے کم از کم 336 گرفتاریوں اور ذرائع ابلاغ کے دو اداروں کی معطلی کے بارے میں بتایا ہے۔بائیس لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم
رپورٹ کے مطابق، طالبان حکام نے جنوری میں خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا تھا۔
ایسی بہت سی خواتین کو اپنی برطرفی کا علم اس وقت ہوا جب انہیں ماہانہ تنخواہ موصول نہ ہوئی۔31 مارچ مسلسل 205واں دن تھا جب افغان خواتین کو ملک بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے سے روکا گیا۔
مارچ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر لڑکیوں کے چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی مسلسل پانچویں سال میں داخل ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق، اس پابندی کے باعث 22 لاکھ لڑکیاں اور خواتین ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔
مزید اہم خبریں
-
پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں
-
حدیقہ کیانی کو ستارۂ امتیاز سے نواز دیا گیا
-
ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں
-
بلاول بھٹو نے سرعام شازیہ مری کو سخت لہجے میں ڈانٹ دیا
-
افغانستان: جسمانی سزاؤں میں اضافہ، توہین طالبان بھی قابل تعزیر
-
سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش
-
اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ
-
استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضوابط کی ضرورت
-
غزہ: اسرائیل کا پولیس کو نشانہ بنانا جنگی جرم، انسانی حقوق دفتر
-
افغانستان غذائی قلت: یو این ادارہ زندگی سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مصروف
-
غزہ: ملبے کے ڈھیر سے سمندر میں جزیرے بنانے کا منصوبہ
-
ملک کی معاشی صورتحال سنگین ہے معاشی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہی نظر آرہا ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.