غزہ: ملبے کے ڈھیر سے سمندر میں جزیرے بنانے کا منصوبہ
یو این
جمعرات 14 مئی 2026
23:00
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) غزہ میں جنگ کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والے ملبے کو ری سائیکل کرکے ساحلی زمین کو بڑھانے اور سمندر میں مصنوعی جزائر کی تعمیر کے امکانات کا جائزہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے بتایا ہے کہ 31 ماہ جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں علاقہ 5 کروڑ 70 لاکھ ٹن ملبے سے بھر گیا ہے۔
جنگ
میں غزہ کی تقریباً تین چوتھائی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ علاقے کی تعمیرنو کے لیے زیرغور مںصوبوں میں ایک حساس تکنیکی اور سیاسی تجویز یہ ہے کہ ملبے کو ری سائیکل کرکے بحیرہ روم کے ساحل کو آگے بڑھایا جائے اور سمندر میں مصنوعی جزائر تعمیر کیے جائیں۔اس منصوبے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے ملبے کی بہت بڑی مقدار کو استعمال میں لایا جا سکے گا جبکہ تعمیرات کے لیے نئی مٹی اور پتھر نکالنے یا سمندر کی تہہ کھودنے کی زیادہ ضرورت نہیں ہو گی۔
(جاری ہے)
اقوام متحدہ کا انتباہ
اقوام متحدہ
کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) نے خبردار کیا ہے کہ انجینئرنگ کے اس قدر بڑے منصوبے کے لیے دستیاب ملبہ ناکافی ہے۔ اس کے لیے تقریباً 20 کروڑ مکعب میٹر تعمیراتی مواد درکار ہو گا جس میں سے صرف ایک کروڑ مکعب میٹر مواد ہی ری سائیکل شدہ ملبے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔یونیپ کے مطابق، اگر غزہ کے مجموعی ملبے کا نصف سے زیادہ حصہ (تقریباً 2 کروڑ مکعب میٹر یا 55 فیصد) بھی ری سائیکل کر لیا جائے تب بھی اس سے مجوزہ پیمانے پر ساحلی بحالی کے لیے درکار مجموعی مواد کا صرف 10 فیصد ہی فراہم ہو سکے گا۔
اس حوالے سے ادارے کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ایسے منصوبوں کا جائزہ ان کی عملی افادیت، لاگت اور تعمیرنو کی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر لیا جانا چاہیے۔ اگر ملبہ تکنیکی اعتبار سے محفوظ اور موزوں ہو تو اسے مصنوعی جزائر بنانے، نشیبی علاقوں کو بھرنے اور زمین کی سطح بلند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ملبے کا تعمیراتی استعمال
زیر جائزہ منصوبوں کے مطابق، کنکریٹ کے بڑے بلاک سمندر کی تہہ میں بنیادوں کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں جبکہ ری سائیکل شدہ ملبہ بندرگاہ کے لیے دیواروں اور ساحلی حفاظتی رکاوٹوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
باریک مٹیریل زمین کو بلند کرنے اور ساحلی پٹی کو نئی شکل دینے کے لیے استعمال ہو گا جس کے ساتھ نکاسی آب کا نیا نظام بھی بنایا جائے گا۔سب سے اہم سوال خود ملبے کی نوعیت سے متعلق ہے۔ غزہ کے ملبے میں تباہ شدہ عمارتوں کا کنکریٹ، ٹائلیں اور لوہا تو دوبارہ استعمال ہو سکتے ہیں مگر ایسبیسٹاس سے آلودہ مواد، گھریلو سامان اور ملبے تلے دبی انسانی باقیات جیسی چیزیں ناقابل استعمال ہوں گی۔
ان پیچیدگیوں کے پیش نظر ادارے کا کہنا ہے کہ تمام ناقابل استعمال اور خطرناک مواد کو مکمل طور پر الگ کرنا ضروری ہو گا اور تبھی اسے کسی تعمیراتی منصوبے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ری سائیکلنگ مراکز کا قیام
اقوام متحدہ
کی ٹیمیں غزہ میں دو ری سائیکلنگ مراکز قائم کر رہی ہیں تاکہ ملبے کو دوبارہ تعمیراتی مواد میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کنکریٹ، اینٹوں، پتھروں اور ٹائلوں کو نسبتاً آسانی سے پراسیس کیا جا سکتا ہے، لیکن ماہرین کا خدشہ ہے کہ منہدم چھتوں میں کیمیائی مادہ اور صنعتی فضلہ بھی موجود ہو سکتا ہے۔اَن پھٹا گولہ بارود بھی ایک بڑا خطرہ ہے جو کہ زمین کو آلودہ کر سکتا ہے۔ ری سائیکلنگ کے لیے پیش رفت کا انحصار بھاری مشینری کی فراہمی پر ہے جس کے غزہ میں داخلے پر اسرائیل نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
ملبے کو ٹھکانے لگانے کا معاملہ ثقافتی ورثے اور سلامتی کے اعتبار سے بھی حساس ہے کیونکہ اس میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والی تاریخی عمارتوں اور آثار قدیمہ کا ملبہ بھی شامل ہے۔
لبنان اور جاپان کی مثال
تمام مشکلات کے باوجود دنیا میں چند ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ کی تعمیرنو میں ملبے کو کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لبنان میں خانہ جنگی کے بعد دارالحکومت بیروت میں سمندر سے زمین واپس حاصل کرنے کے لیے ملبہ کام میں لایا گیا تھا۔ تاہمیونیپ کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے دوران ماحولیاتی اور انتظامی مسائل بھی سامنے آئے تھے۔
جاپان میں 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد ملبے کو احتیاط سے الگ کرکے اسے ساحلی تحفظ، زمین کی سطح بلند کرنے اور تعمیر نو کے کاموں میں استعمال کیا گیا۔
یونیپ کا کہنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کڑے تکنیکی اور ماحولیاتی ضابطے نافذ کر کے بڑے پیمانے پر ملبے کی ری سائیکلنگ ممکن ہے۔یونیپ کے مطابق، سمندری ماحول میں ملبے کو استعمال کرنے کے لیے فلسطینی ماحولیاتی قانون (7) 1999 کی پابندی ضروری ہے جس کے تحت ایسے تمام منصوبوں کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا لازم ہے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ اس معاملے میں بحیرہ روم سے متعلق بین الاقوامی اور علاقائی ماحولیاتی اصولوں اور معاہدوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
مزید اہم خبریں
-
پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں
-
حدیقہ کیانی کو ستارۂ امتیاز سے نواز دیا گیا
-
ٹرمپ اب نہیں چاہتا کہ ایران سے مزید جنگ ہو یا نئے حملے شروع ہوں
-
بلاول بھٹو نے سرعام شازیہ مری کو سخت لہجے میں ڈانٹ دیا
-
افغانستان: جسمانی سزاؤں میں اضافہ، توہین طالبان بھی قابل تعزیر
-
سلامتی کونسل میں افریقہ کی نمائندگی نہ ہونا تاریخی نا انصافی، گوتیرش
-
اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ
-
استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے ضوابط کی ضرورت
-
غزہ: اسرائیل کا پولیس کو نشانہ بنانا جنگی جرم، انسانی حقوق دفتر
-
افغانستان غذائی قلت: یو این ادارہ زندگی سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مصروف
-
غزہ: ملبے کے ڈھیر سے سمندر میں جزیرے بنانے کا منصوبہ
-
ملک کی معاشی صورتحال سنگین ہے معاشی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہی نظر آرہا ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.