Live Updates

اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ

یو این جمعرات 14 مئی 2026 23:00

اسرائیل حزب اللہ بڑھتی ڈرون دوڑ امن کاروں اور جنگ بندی کے لیے خطرہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مئی 2026ء) لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس(یونیفیل) نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے ڈرون طیاروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان سے ہونے والے دھماکوں کے باعث اس کے اہلکاروں کی زندگی اور جنوبی لبنان میں نازک جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہے۔

یونیفیل نے یہ انتباہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے مابین جاری جھڑپوں کے تناظر میں جاری کیا ہے جو 17 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں۔

فورس نے بتایا ہے کہ 11 مئی کو شام 5 سے 5:30 بجے کے درمیان حزب اللہ کے تین مشتبہ ڈرون اس مقام کے قریب پھٹے جہاں ممکنہ طور پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود تھے اور یہ جگہ نقورہ میں یونیفیل کے ہیڈکوارٹر سے چند میٹر کے فاصلے پر تھی۔

(جاری ہے)

Tweet URL

12 مئی کو شام 5:20 بجے اسی علاقے میں ایک اور ڈرون دھماکے سے پھٹ گیا جس سے چند منٹ کے بعد حزب اللہ کا ایک مشتبہ ڈرون بھی یونیفیل کے ہیڈکوارٹر میں گر کر پھٹا۔

ان دھماکوں میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا تاہم بعض عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ 10 مئی کی شام بھی ایک غیر مسلح ڈرون یونیفیل ہیڈکوارٹر کے اندر کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈرون ایران میں تیار کیا گیا تھا اور اسے حزب اللہ نے استعمال کیا۔

امن مشن نے مزید بتایا ہے کہ 5 مئی کو مبینہ طور پر حزب اللہ کا ایک مسلح فائبر آپٹک گائیڈڈ ڈرون جنوبی لبنان میں ضلع صور کے علاقے الحنیہ میں یونیفیل کی چوکی میں جا گرا۔

خوش قسمتی سے یہ ڈرون پھٹ نہ سکا اور اس طرح وہاں موجود اہلکار محفوظ رہے۔

امن کاروں کے تحفظ کا مطالبہ

یونیفیل نے متحارب فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مراکز اور اہلکاروں کے قریب کسی طرح کی عسکری سرگرمی سے گریز کریں اور ایسے اقدامات سے باز رہیں جن سے امن کاروں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔

مشن نے یونیفیل ہیڈکوارٹر کے قریب اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں اور گاڑیوں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر باضابطہ احتجاج کیا ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ کے مراکز کے قریب غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر لبنانی فوج کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 380 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

2 مارچ سے، اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر بمباری سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2,880 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 279 خواتین اور 200 بچے شامل ہیں۔

طبی سہولیات پر حملے

جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ منگل کو وادی بقہ کے گاؤں صہمور میں ہونے والے دو فضائی حملوں میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب رات کے دوران گاؤں کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، حملوں سے صحت کا شعبہ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔

سوموار کو جنوبی علاقے صریفہ میں رضاکارانہ بنیادوں پر چلنے والے ایک طبی مرکز پر حملے میں ایک طبی کارکن ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ ادارے کے مطابق، اسی روز نباتیہ کے علاقے طول میں ایک اور طبی کارکن اس وقت مارا گیا جب وہ فضائی حملے کے متاثرین کی مدد کر رہا تھا۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات